پنجاب اسمبلی: اپوزیشن کے 26 ارکان کے لیے بری خبر تیار ہونے لگی
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے 26 ارکان کی ممکنہ نااہلی کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی اور قانونی سطح پر گرم ہو گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی جانب سے دی گئی رولنگ کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
قانونی جنگ کا آغاز: عدالت سے رجوع کی تیاریاںذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے ارکان اس معاملے کو لے کر وکلا سے مشاورت کر رہے ہیں کہ آیا اس فیصلے کو سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں چیلنج کیا جائے یا لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا جائے؟
یہ بھی پڑھیے پنجاب اسمبلی: اپوزیشن کے معطل اراکین کی بحالی کا نوٹیفکیشن جاری
مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی افتخار حسین چھچھڑ، امجد علی جاوید اور ملک احمد سعید نے اعلان کیا ہے کہ وہ ذاتی حیثیت میں اسپیکر کی رولنگ کو چیلنج کریں گے۔
افتخار چھچھڑ کا دوٹوک مؤقفرکن اسمبلی افتخار حسین چھچھڑ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف اپوزیشن کے 26 ارکان کی نااہلی کا مسئلہ نہیں، بلکہ سپریم کورٹ کے ایک تاریخی فیصلے کی ساکھ کا سوال ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف کے خلاف دیے گئے ریفرنس کو درست تسلیم کیا جاتا ہے تو پھر اپوزیشن کے ان ارکان کی بھی نااہلی لازمی ہونی چاہیے۔
’عدالت کو یہ فیصلہ دینا ہوگا کہ جسٹس ثاقب نثار کا دیا گیا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق تھا یا نہیں۔ اگر وہ فیصلہ آئینی نہیں تھا تو اس کی درستگی ضروری ہے۔‘
سپیکر کی رولنگ پر اعتراضافتخار حسین چھچھڑ نے واضح کیا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کو چیلنج کرنے کا مقصد کسی فرد کو نااہل کرانا نہیں، بلکہ صرف اور صرف قانونی پیچیدگیوں کی وضاحت اور آئینی تشریح حاصل کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے اسپیکر پنجاب اسمبلی نے 26 اپوزیشن اراکین کی نااہلی کی درخواستیں مسترد کر دیں
’ہمارا مقصد صرف منطقی اور قانونی رائے حاصل کرنا ہے، تاکہ مستقبل میں عدالتی ساکھ اور آئینی تشریحات پر سوال نہ اٹھیں۔‘
سیاسی و عدالتی پس منظریہ معاملہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے اس فیصلے سے جڑا ہوا ہے، جس کے تحت نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا تھا۔
اب مسلم لیگ ن کے چند ارکان مطالبہ کر رہے ہیں کہ اسی فیصلے کی روشنی میں اپوزیشن کے 26 ارکان پر بھی وہی اصول لاگو ہونے چاہئیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اپوزیشن ارکان اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان پنجاب اسمبلی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نواز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپوزیشن ارکان اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان پنجاب اسمبلی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نواز شریف اسپیکر پنجاب اسمبلی اپوزیشن کے 26 ارکان مسلم لیگ
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘