رکن پارلیمنٹ کو مجرمانہ سزا ہوجانے پر اسپیکر یا چیئرمین سینیٹ کے حوالوں کی ضرورت نہیں: ای سی پی ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
ویب ڈیسک: الیکشن کمیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کسی رکن سینیٹ یا اسمبلی کو مجرمانہ سزا ہو جائے تو اسپیکر اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ سے کسی رسمی توثیق یا حوالہ جات کی ضرورت نہیں رہتی۔
ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق انسداد دہشتگردی عدالت کی جانب سے جن اراکین کوسزا سنائی گئی انہیں آرٹیکل 63 ون ایچ کے تحت نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔
ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر کسی رکن سینیٹ یا اسمبلی کو مجرمانہ سزا ہو جائے تو اسپیکر اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ سے کسی رسمی توثیق یا حوالہ جات کی ضرورت نہیں رہتی۔
الیکشن کمیشن نے پارلیمنٹ کے پانچ اور صوبائی اسمبلی کے تین ارکان کو نااہل قرار دے دیا،9 نشستیں خالی ہو گئیں
آرٹیکل 63 ون کی شق جی اور ایچ کے اطلاق کی صورت میں الیکشن کمیشن کے لیے مجرم رکن کی نااہلی ایک ناگزیر قانونی امر بن جاتا ہے، آرٹیکل 63 ون ای سی پی میں بیان کردہ نااہلیوں کو 2 زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
پہلی قسم کے زمرے میں آنے والی نااہلیوں میں اس بات کا تعین کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے کہ آیا کسی رکن کی نااہلی کا سوال پیدا ہوا ہے یا نہیں جس کے لیے اسپیکر یا چیئرمین سینیٹ کی رضامندی کی ضرورت ہوگی۔
خاتون نے بوائے فرینڈ سے تحفے کے طور پر لیے آئی فونز فروخت کرکے اپنا گھر خرید لیا
دوسرے زمرے میں آنے والے کیسز کے لیے اسپیکر، چیئرمین سینیٹ یا ای سی پی کے کسی تعین کی ضرورت نہیں ہے ۔
ذرائع نے کہا کہ متعلقہ اراکین کو انسدادِ دہشتگردی عدالت کی جانب سے قصوروار ٹھہرایا گیا ہے، اس لیے نہ صرف آئین کی شق 63 بلکہ الیکشنز ایکٹ 2017 کی سیکشن 232 بھی کمیشن کو پابند کرتی ہے کہ وہ ایسے افراد کو انتخابی عمل کیلئے نااہل قرار دے۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: چیئرمین سینیٹ کی ضرورت نہیں الیکشن کمیشن
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔