لاہور: عمران خان کی کال پر احتجاج، ڈپٹی اپوزیشن لیڈر پنجاب اور ریحانہ ڈار سمیت متعدد رہنما گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی کال پر لاہور میں احتجاج کے دوران پولیس نے ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین قریشی اور رکن صوبائی اسمبلی شعیب امیر سمیت پارٹی کے متعدد رہنماؤں کو گرفتار کر لیا۔
رپورٹ کے مطابق اراکین صوبائی اسمبلی نے شہر میں ریلی نکالی، پولیس نے رکن صوبائی اسمبلی شعیب امیر کو گرفتار کر لیا، اس کے علاوہ ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین قریشی کی بھی گرفتاری کی اطلاع ہے۔
رکن صوبائی اسمبلی فرخ جاوید مون نے الزام لگایا کہ پولیس نے ہماری گاڑیوں پر ڈنڈے برسائے، شیشے توڑے، اراکین صوبائی اسمبلی کو زد وکوب کیا، کپڑے پھاڑ دئیے۔
لاہور میں 6 سے زیادہ ایم پی ایز کو حراست میں لیے جانے کی اطلاع ہے، زیر حراست رہنماؤں میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین قریشی، ایم پی ایز فرخ جاوید مون، کرنل (ر) شعیب، ندیم صادق ڈوگر، خواجہ صلاح الدین، امین اللہ خان اور اقبال خٹک بھی شامل ہیں۔
میری بہادر والدہ ریحانہ ڈار کی گرفتاری کے مناظر دیکھ کر انتہائی افسوس ہوا۔
80 سالہ بزرگ خاتون کو جس طرح پنجاب پولیس نے گھسیٹتے ہوئے گرفتار کیا، وہ عمل شرمناک، گھٹیا اور قابلِ مذمت ہے۔
والدہ کو معلوم تھا کہ وہ گرفتار ہو سکتی ہیں، مگر انہوں نے کبھی گرفتاری سے ڈر کر پیچھے ہٹنے یا… pic.
— Usman Dar (@UdarOfficial) August 5, 2025
پارٹی ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ لاہور سے ہمارے 300کارکنان کو حراست میں لیا گیا ہے، گزشتہ روز پی ٹی آئی کے کارکن چھاپوں کے خوف سے پنجاب اسمبلی سے نہیں نکل رہے تھے۔
ادھر اسلام پورہ سے پی ٹی آئی رہنما عباد فاروق کے بھائی شہزاد فاروق کو گرفتار کرلیا گیا، شہزاد فاروق نے کارکنوں کے ہمراہ ریلی نکالنے کی کوشش کی۔
پولیس ذرائع نے کہا کہ شہزاد فاروق تحریک انصاف کی جانب سے رکن صوبائی اسمبلی کے امیدوار بھی رہے، شہزاد فاروق کو ساتھی کارکنوں کے ہمراہ تھانے منتقل کردیا گیا۔
دوسری جانب پولیس اہلکار نے دعویٰ کیا کہ اپی ٹی آئی کے لوگوں نے پولیس پر حملہ کیا، ایک پولیس اہلکار کا سر پھٹ گیا ہے۔
صدر انصاف لیگل فورم (آئی ایل ایف) لاہور ملک شجاعت جندران نے کہا کہ گرفتار رہنماوں اور کارکنوں کی ضمانتوں لیے لیگل ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں ۔
انہوں نے کہا کہ تین لیگل ٹیمیں گرفتار کیے گئے کارکنوں کی رہائی کیلئے شہر کی تمام کچہریوں میں موجود ہیں، ماڈل ٹاون کچہری ، ضلعی کچہری اور کینٹ کچہری میں لیگل ٹیمیں موجود ہیں۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی صدر چوہدری پرویزالٰہی کی خصوصی ہدایت پر لاہور میں ان کی ہمشیرہ بیگم ثمیرہ الٰہی، منڈی بہاؤالدین سے بیگم کوثر محمد خان بھٹی اور صدر کسان ونگ منڈی بہاؤالدین لیاقت علی بھٹی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کیلئے ریلی کا انعقاد کیا گیا۔
پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں نے عمران خان اور چوہدری پرویزالٰہی کی تصاویر والے پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔
بیگم ثمیرہ الٰہی اور بیگم کوثر محمد خان بھٹی نے عمران خان کو رہا کرو، کشمیر بنے گا پاکستان اور چوہدری پرویزالٰہی کے حق میں نعرے لگوائے۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان ڈپٹی اپوزیشن لیڈر رکن صوبائی اسمبلی شہزاد فاروق پولیس نے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔