پیوٹن سے جلد ملاقات کا امکان ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ بہت جلد روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے ملاقات کرسکتے ہیں۔ یہ بات امریکی صدر نے ماسکو میں اپنے خصوصی نمائندے اور روسی رہنما کے درمیان انتہائی نتیجہ خیز مذاکرات کے بعد کہی۔
امریکا اور یوکرین کے رہنماؤں کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو میں اس ممکنہ سربراہی اجلاس پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں نیٹو کے جنرل سیکریٹری مارک رٹ اور برطانیہ، جرمنی اور فن لینڈ کے سربراہان بھی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو ’پاگل‘ قرار دے دیا
ٹرمپ نے بدھ کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ امکان ہے کہ بہت جلد ملاقات ہوگی۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ملاقات کہاں ہوگی، اگر یہ ملاقات ہوئی تو یہ جون 2021 میں سابق امریکی صدر جو بائیڈن اور پیوٹن کے درمیان جنیوا اجلاس کے بعد پہلی سربراہی ملاقات ہوگی۔
نیو یارک ٹائمز اور سی این این نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ اگلے ہفتے پیوٹن سے ملاقات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس کے بعد وہ پیوٹن اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ تین طرفہ اجلاس بھی کرنا چاہتے ہیں۔
زیلنسکی نے بدھ کی شام کہاکہ ایسا لگتا ہے کہ روس جنگ بندی کے لیے زیادہ آمادہ ہوگیا ہے، ان پر دباؤ کام کر رہا ہے، لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ ہمیں یا امریکا کو تفصیلات میں دھوکہ نہ دیں۔
ٹرمپ کی زیلنسکی سے فون کال اس وقت ہوئی جب امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف نے ماسکو میں روسی قیادت سے ملاقات کی، جسے کریملن نے نتیجہ خیز قرار دیا۔
ٹرمپ نے اپنی سماجی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر لکھا، ’زبردست پیش رفت ہوئی ہے۔‘ اور مزید کہاکہ انہوں نے کچھ یورپی اتحادیوں کو بریف کیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہر کوئی اتفاق کرتا ہے کہ یہ جنگ ختم ہونی چاہیے، اور ہم آنے والے دنوں اور ہفتوں میں اس کے لیے کام کریں گے۔ تاہم چند منٹ بعد ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے کہاکہ ثانوی پابندیاں دو دن میں نافذ کی جائیں گی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہاکہ وٹکوف ماسکو سے جنگ بندی کی تجویز لے کر واپس آئے ہیں جس پر یوکرین اور یورپ کے اتحادیوں کے ساتھ بات چیت کی جائے گی۔
انہوں نے ملاقات کے وقت کے حوالے سے احتیاط برتی اور کہاکہ آگے بہت کام باقی ہے اور اس میں ہفتوں بھی لگ سکتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ جو اقتدار سنبھالنے کے 24 گھنٹوں میں جنگ ختم کرنے کا دعویٰ کرچکے تھے، نے روس کو جمعہ تک امن کے لیے پیش رفت کرنے یا نئی پابندیوں کا سامنا کرنے کی وارننگ دی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے ابھی تک روس کے خلاف اقدامات کا اعلان نہیں کیا، لیکن ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ زیادہ ثانوی پابندیاں لگائیں گے جو روس کے اہم تجارتی شراکت داروں کو نشانہ بنائیں گی۔
اسی دن انہوں نے بھارتی مصنوعات پر سخت ٹیکس عائد کیا کیونکہ نئی دہلی روسی تیل کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روس یوکرین امن کوشش: ٹرمپ روسی صدر پیوٹن سے جلد ملنے کے خواہاں
کریملن نے اگرچہ ٹرمپ کا نام نہیں لیا، لیکن تجارتی شراکت داروں پر ٹیکس بڑھانے کی دھمکیوں کو غیر قانونی قرار دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکی صدر امکان پیوٹن ملاقات ڈونلڈ ٹرمپ روسی صدر مذاکرات وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر امکان پیوٹن ملاقات ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات وی نیوز ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر پیوٹن سے انہوں نے کہاکہ ا کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز