Islam Times:
2026-06-03@01:35:31 GMT

عرب و یہودی مظاہرین کا غزہ کی سرحد پر بھرپور احتجاج

اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT

عرب و یہودی مظاہرین کا غزہ کی سرحد پر بھرپور احتجاج

‍‍‍‍‍‍

آٹے کے تھیلوں کے ہمراہ غزہ کی پٹی کے اندر داخلے کے متمنی سینکڑوں عرب و یہودی احتجاجی مظاہرین کے غزہ کی سرحد کے قریب بیمثال اجتماع نے غاصب صہیونی معاشرے میں گہری تقسیم اور نیتن یاہو کی انسانیت سوز پالیسیوں کو مزید واضح کرتے ہوئے ظاہر کیا ہے کہ غاصب صیہونیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں انسانیت تاحال زندہ ہے اسلام ٹائمز۔ غاصب و سفاک اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے غزہ کی پٹی پر مکمل قبضے اور اس خطے میں جاری انسانیت سوز صیہونی حملوں میں توسیع کے بارے جاری ہونے والے بیانات کے سامنے آنے کے بعد، مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں رہائش پذیر بائیں بازو کے سینکڑوں اسرائیلی و عرب باشندوں نے غزہ کی سرحد کے قریب وسیع احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ فلسطینی خبر رساں ایجنسی صفا کے مطابق بائیں بازو کے سینکڑوں اسرائیلیوں نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی شہریوں کو بھوکے مار ڈالنے کی صیہونی پالیسی کے خلاف، غزہ کی سرحد کے قریب جمع ہو کر بھرپور احتجاج کیا جبکہ اس دوران انہوں نے آٹے کے تھیلے بھی اٹھا رکھے تھے جن کے بارے ان کا کہنا تھا کہ وہ انہیں غزہ کی پٹی میں موجود فلسطینی شہریوں کو دینا چاہتے ہیں کیونکہ وہ فلسطینیوں پر مسلط کردہ اسرائیلی قحط کو اب مزید برداشت نہیں کر سکتے۔

اس حوالے سے، مقبوضہ فلسطین میں آباد سینکڑوں یہودیوں و عربوں سمیت بائیں بازو پر مشتمل تحریک "اسٹینڈ ٹوگیدر" نے اس مظاہرے سے متعلق ایک ویڈیو کلپ بھی جاری کیا ہے جس میں مظاہرین غزہ کی سرحد کے دوسری جانب اسرائیل میں موجود ہیں۔ اس ویڈیو میں مذکورہ تحریک کے رہنما رولا داؤد کو آٹے کا تھیلا اٹھائے دیکھا جا سکتا ہے کہ جو غزہ پر مسلط کردہ قحط کی صیہونی پالیسی کی اعلانیہ مخالفت کرتے نظر آتے ہے۔ 
-
  اس بارے اسٹینڈ ٹوگیدر کے بانیوں میں سے ایک ایلون لی گرین نے بھی سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے اپنے بیان میں لکھا ہے کہ اسرائیلی پولیس نے سرحد کے قریب منعقدہ احتجاجی سرگرمیوں کو روک دیا ہے۔ ایلون لی گرین نے وضاحت کی کہ اس احتجاج کے شرکاء نے بارڈر کراسنگ کھولنے، انسانی امداد کے داخلے اور غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: غزہ کی سرحد کے سرحد کے قریب غزہ کی پٹی

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان