چیئرمین سینیٹ کی مستونگ دھماکہ کی مذمت، شہداکو خراج عقیدت
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 اگست2025ء)چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے قنزعہ میں دہشت گردوں کی جانب سے سکیورٹی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنائے جانے والے بزدلانہ آئی ای ڈی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ دہشت گرد عناصر ملک کے امن، استحکام اور ترقی کے دشمن ہیں جن کا صفایا ناگزیر ہے۔
سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق چیئرمین سینیٹ نے شہدا کی عظیم قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی سلامتی اور امن کے لئے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے یہ بہادر سپوت پوری قوم کے ہیرو اور فخر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور مادرِ وطن کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے پوری قوم یکجا ہے۔(جاری ہے)
سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ دہشت گرد عناصر ملک کے امن، استحکام اور ترقی کے دشمن ہیں جن کا صفایا ناگزیر ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایسے بزدلانہ حملے قوم کے عزم و حوصلے کو متزلزل نہیں کر سکتے، بلکہ ہمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مزید متحد اور پرعزم کرتے ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے شہداکے اہلِخانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ پوری قوم ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداکے اہلِخانہ کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور ان کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی اور پاکستان کی ریاست اور عوام اس جنگ میں مکمل یکجہتی اور استقامت کے ساتھ کھڑے ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے چیئرمین سینیٹ کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے جو دہشت گردوں کو وسائل مہیا کررہا ہے۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت کا کردار واضح ہے جو دہشت گردوں کو وسائل فراہم کررہا ہے، افغان عبوری حکومت دہشت گردی کو روکنے میں بالکل ناکام ہے، افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکے،ہم نے افغانستان کو سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو کنٹرول کرے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں صرف عوام قربانیاں نہیں دے رہے بلکہ اس میں ہماری لا اینڈ انفورسمنٹ ایجنسیز شامل ہیں، اس میں ہماری افواج پاکستان کے کڑیل جوان اور افسران شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں اب تک ہمارے 90 ہزار پاکستانی شہید ہوچکے ہیں اس جنگ کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے جو انہیں وسائل بھی مہیا کررہا ہے اور اس میں دیگر فیکٹرز بھی ملوث ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان پاکستان کا جغرافیائی اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ ہے، بہادر بلوچوں اور پختونوں نے پاکستان کے قیام میں بڑا کردار ادا کیا، ترقی کے دوڑ میں جب تک چاروں صوبے مساویانہ طور پر شریک نہیں ہوں گے پاکستان ترقی نہیں کرسکے گا اور میں یہ بات دل کی اتھاہ گہرائیوں سے قبول کرتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ بلوچستان کی ترقی میں وفاقی حکومت کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔
کوہاٹ میں ایکسائز اہلکاروں پر حملے کی مذمت
دریں اثنا وزیرِاعظم نے کوہاٹ میں ایکسائز اہلکاروں پر دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ وزیرِ اعظم نے واقعے میں سب انسپکٹر سجاد الاسلام اور کسٹم کانسٹیبل جواد کی شہادت پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا، شہدا کے اہل خانہ کے لیے صبر اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
وزیرِ اعظم نے متعلقہ اہلکاروں کو ذمہ داران کا تعین کرکے انہیں قرار واقعہ سزا دلوانے کی ہدایت کی اور کہا کہ دہشت گردوں کے عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے، شرپسند عناصر کو کسی صورت ملک کا امن تباہ کرنے نہیں دیں گے۔