انسداددہشتگردی وریاستی رٹ کاقیام؛وزیرداخلہ محسن نقوی کی سربراہی میں22رکنی اعلی سطح کمیٹی قائم
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
سٹی 42: انسداددہشتگردی وریاستی رٹ کےقیام کےحوالے سےمزیداقدامات کے لیےکمیٹی تشکیل دی گئی
وزیراعظم نےوزیرداخلہ محسن نقوی کی سربراہی میں22رکنی اعلی سطح کمیٹی قائم کردی،وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ ،وزیراطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ،مشیررانا ثناء اللہ،وزیر مملکت داخلہ،وفاقی سیکریٹری داخلہ کمیٹی ارکان کاحصہ ہیں ، چاروں صوبوں،آزادکشمیر، گلگت بلتستان کےچیف سیکرٹریز اور آئی جیزکمیٹی ارکان کا حصہ ہیں ،سیکیورٹی اداروں کےنمائندے اورچیف کمشنراسلام آباد کوکمیٹی میں شامل کیا گیاہے۔
ٹرمپ ٹیرف کا اثر! انڈیا میں سٹاک مارکیٹ بیٹھ گئی
کمیٹی31جولائی2025کومنعقدہ اجلاس میں زیربحث آنےوالےاہم اسٹرٹیجک نکات کاجائزہ لےگی،وزیراعظم کی سربراہی میں 31 جولائی والےاجلاس میں فیلڈ مارشل سمیت دیگر اعلی حکام نےشرکت کی تھی،
کمیٹی انسداد دہشتگردی وریاستی رٹ کے قیام سےمتعلق اہم معاملات،اسٹریٹیجک نکات پر غورکرے گی،کمیٹی خاص طورصوبوں کےساتھ اہم شعبوں میں رابطہ کاری پرتوجہ دینےسےمتعلق اموردیکھےگی،کمیٹی غیرملکی شہریوں کی سکیورٹی اورسیف سیٹیزکےقیام کےحوالےسے تجاویزدےگی ،کمیٹی علاقوں کی نشاندہی کرےگی جہاں صوبوں کووفاقی حکومت سےتکنیکی معاونت کی ضرورت ہو،تاکہ پالیسی کی ہم آہنگی اور مؤثر نتائج کے لیےمشترکہ اقدامات کیےجا سکیں، کمیٹی سیکیورٹی کوآرڈینیشن، مختلف اداروں کےدرمیان تعاون بہتربنانےکے لیےحل تجویز کرے گی،وزارتِ داخلہ کمیٹی کےلیے سیکرٹریٹ سپورٹ اورتمام ضروری سہولیات فراہم کرے گی۔
پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کے آئی ٹی سسٹم پر سائبر حملہ، ہیکرز نے تاوان کا مطالبہ کردیا
کمیٹی اپنا کام 15روز کےاندر مکمل کر کےوزیراعظم کو رپورٹ پیش کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔