Jang News:
2026-06-03@08:13:10 GMT

کراچی، اربعین مارچ کا فیصلہ موخر، 7 نکاتی ایجنڈے پر اتفاق

اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT

کراچی، اربعین مارچ کا فیصلہ موخر، 7 نکاتی ایجنڈے پر اتفاق

فوٹو: اسکرین گریب

مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) نے اربعین مارچ کا فیصلہ موخر کردیا، حکومت، شیعہ علما کونسل اور ایم ڈبلیو ایم نے 7 نکاتی ایجنڈے پر اتفاق کرلیا ہے۔

وفاقی وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ گورنر سندھ کا مشکور ہوں، انہوں نے  مذاکرات میں کردار ادا  کیا۔

طلال چوہدری نے کہا کہ ہم نے درخواست کی ہے کہ اس سال بذریعہ سڑک اربعین کے لیے سفر نہ کیا جائے، حکومت عراقی ویزے کی 60 روز تک توسیع کرائی گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ بارڈر پر موجود طلبہ کو ایران داخل ہونے دیا جائے گا اور جن کے عراقی ویزا جاری ہوچکے ہیں انہیں رعایتی ٹکٹ دلوائیں گے۔

وفاقی وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ 2 سے 3 روز میں فلائٹ آپریشن بھی شروع کروایا جائے گا، معاملے پر حکومت اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے گی۔

اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم کے رہنما علامہ رضوی نے کہا کہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری کو مطالبات پورے کروانے کے لیے ضامن بنادیا ہے۔

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ جو راستہ روضہ حضرت امام علی اور امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے روضوں کی زیارت کی جانب جارہا ہو اسے کوئی بند کر ہی نہیں سکتا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر