بیوروکریٹس کی منی لانڈرنگ اور کرپشن، جماعت اسلامی نے جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
نائب امیر لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا بیوروکریٹس کے غیرقانونی اثاثہ جات، منی لانڈرنگ اور کرپشن پر چشم کشا حقائق قوم کے سامنے رکھے ہیں، اِن تمام معلومات و حقائق کی آئین، قانون اور قومی مفادات کے تناظر میں تحقیقات اور اقدامات کی ضرورت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے منصورہ لاہور میں جمعیت طلبہ عربیہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا بیوروکریٹس کے غیر قانونی اثاثہ جات، منی لانڈرنگ اور کرپشن پر چشم کشا حقائق قوم کے سامنے رکھے ہیں، پوری قوم میں طویل مدت سے نوکر شاہی کے بارے میں یہی تاثر گہرا ہے، لیکن وفاقی حکومت کے ذمہ دار ترین وزیر کی جانب سے صرف حقائق بیان کرنا ذمہ داری نہیں، اِن تمام معلومات و حقائق کی آئین، قانون اور قومی مفادات کے تناظر میں تحقیقات اور اقدامات کی ضرورت ہے۔ خواجہ آصف کے بیان پر سپریم کورٹ کیلئے ریفرنس بھجوایا جائے اور جوڈیشل کمیشن/جے آئی ٹی کے ذریعے شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے۔
دریں اثناء لیاقت بلوچ سے امیر جماعتِ اسلامی بلوچستان مولانا ہدایت الرحمٰن نے فون پر کہا کہ وہ وفاقی کمیٹی کی تشکیل کیلئے اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کررہے ہیں اور جلد نام فائنل کردیں گے۔ لیاقت بلوچ نے وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری اور پنجاب حکومت کی سینئر وزیر مریم اورنگ زیب سے رابطہ کیا اور اُنہیں’’حق دو بلوچستان لانگ مارچ‘‘کے قائدین سے مذاکرات اور معاہدہ پر عملدرآمد کے حوالے سے ٹائم لائن دینے کا کہا۔ لیاقت بلوچ نے مطالبہ کیا کہ اسلام آباد میں خواتین کے احتجاجی کیمپ کی قیادت سے مذاکرات کیے جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: لیاقت بلوچ
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔