Juraat:
2026-06-03@02:24:38 GMT

امریکی ٹیرف کے بھارتی معیشت پر ممکنہ اثرات

اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT

امریکی ٹیرف کے بھارتی معیشت پر ممکنہ اثرات

میری بات/روہیل اکبر

 

بھارت دنیا کا کثیر آبادی والا ملک ہے جہاں غربت بھی حد سے زیادہ ہے۔ اب امریکہ کی طرف سے بھارت پر50فیصد ٹیرف لگا دیا گیا ہے جس سے غربت اور بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔یہ ٹیرف بھارت کی جانب سے روس سے تیل کی خریداری پرعائد کیا گیا ہے۔ بھارت پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کی خبر نے بین الاقوامی تجارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس فیصلے کے سیاسی، معاشی اور سفارتی پہلوؤں پر نہ صرف غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ عام قاری کو ”ٹیرف” جیسے اصطلاحی الفاظ کا مفہوم بھی جاننا چاہیے کہ ٹیرف کیا ہوتا ہے؟
ٹیرف دراصل ایک قسم کا درآمدی ٹیکس ہوتا ہے جو ایک ملک دوسرے ملک سے آنے والی اشیاء پر عائد کرتا ہے جب کسی شے پر ٹیرف بڑھا دیا جائے تو وہ شے درآمد کنندہ ملک میں مہنگی ہو جاتی ہے جس سے مقامی صنعت کو فروغ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر امریکہ بھارت سے آنے والے اسٹیل پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرتا ہے تو بھارتی اسٹیل کی قیمت امریکی منڈی میں بڑھ جائے گی جس سے امریکی اسٹیل ساز کمپنیوں کو فائدہ ہوگا اگر ہم بھارت پر 50 فیصد امریکی ٹیرف کے اثرات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ یہ فیصلہ بھارت کے لیے کئی حوالوں سے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے جیسے بھارت کی بہت سی اشیاء خصوصاً ٹیکسٹائل، اسٹیل، کیمیکل اور فارما سیوٹیکل مصنوعات امریکہ کو برآمد کی جاتی ہیں جن پر 50 فیصد ٹیرف ان اشیاء کو مہنگا کر دے گا جس سے ان کی مانگ میں کمی آئے گی جب برآمدات میں کمی آئے گی تو بھارتی صنعتوں میں پیداوار کم ہو گی جس سے روزگار کے مواقع بھی محدود ہوں گے۔ برآمدات میں کمی کا براہ راست اثر بھارت کے زرمبادلہ ذخائر پر بھی پڑے گا جو معیشت کو مزید دباؤ میں ڈالے گا اوربھارت کی حکومت پر اندرونی اور بیرونی دباؤ بڑھ سکتا ہے کہ وہ امریکہ سے تعلقات میں بہتری کے لیے دوبارہ مذاکرات کرے۔ امریکہ کے مطابق بھارتی مصنوعات پر ٹیرف میں اضافہ تجارتی توازن قائم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ بھارت اپنی منڈیوں کو امریکی کمپنیوں کے لیے محدود رکھتا ہے جبکہ امریکی منڈیوں میں بھارتی مصنوعات آزادانہ داخل ہوتی ہیں۔ امریکی پابندیوں کے بعد اب بھارت کے پاس کیا آپشنز ہیں؟ اس حوالہ سے بھارت ڈبلیو ٹی او میں شکایت درج کروا سکتا ہے تاکہ اس فیصلے پر نظرثانی کی جا سکے اوربھارت بھی امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف لگا کر دباؤ ڈال سکتا ہے جیسا کہ چین نے ماضی میں کیا تھا یابھارت یورپ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کی منڈیوں پر توجہ دے سکتا ہے تاکہ امریکی انحصار کم کیا جا سکے یا پھربھارت امریکہ سے سفارتی سطح پر بات چیت کے ذریعے کسی متفقہ حل کی کوشش کر سکتا ہے ۔
اگر بھارت اس ٹیرف کو ختم کروانے میں ناکام رہا تو پھر اس کا اثر بھارت پر بہت بُرا پڑ سکتا ہے کیونکہ بھارت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے جبکہ 2023 میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت آبادی میں چین کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بننے جا رہا ہے۔ بھارت کی آبادی میں بے پناہ اضافہ کئی دہائیوں سے جاری ہے جو قدرتی وسائل، بنیادی ڈھانچے اور سماجی خدمات پر شدید دباؤ ڈال رہا ہے اگرچہ شہری علاقوں میں ترقی اور خوشحالی کے دعوے کیے جاتے ہیں لیکن دیہی علاقوں میں صورت حال اس کے برعکس ہے۔ دیہی آبادی کا بڑا حصہ آج بھی بنیادی سہولیات جیسے صاف پانی، صحت اور تعلیم سے محروم ہے بھارت میں غربت ایک کثیر الجہتی مسئلہ ہے جہاں نہ صرف آمدنی میں کمی بلکہ غذائیت، تعلیم، صفائی اور دیگر بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی بھی شامل ہے۔ اگرچہ کچھ سرکاری رپورٹس میں غربت کی شرح میں کمی کا دعویٰ کیا گیا ہے لیکن بہت سے آزاد اداروں اور ماہرین کا خیال ہے کہ اصل صورت حال زیادہ تشویشناک ہے ۔بھارت کی 1.

4 ارب آبادی میں سے ایک ارب سے زائد افراد انتہائی غربت میں زندگی گزار رہے ہیں جس کی وجہ سے بھارت میں اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ امیری اور غریبی کے درمیان خلیج وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ ایک طرف ارب پتی افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے تو دوسری طرف غریب طبقے کی آمدنی میں کمی واقع ہورہی ہے۔ ملک کے صرف 5 فیصد لوگوں کا 60 فیصد دولت پر قبضہ ہے ۔ اس وقت بھارت میںغربت کی سب سے زیادہ شکار دلت اور پسماندہ ذاتیں ہیں۔
اگر دیکھا جائے توآبادی اور غربت کے درمیان ایک گہرا اور پیچیدہ تعلق ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی بے روزگاری میں اضافہ کرتی ہے جس سے آمدنی میں کمی اور غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ آبادی میں اضافہ حکومت کے لیے صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے جیسی ضروریات کو پورا کرنا مشکل بنا دیتا ہے۔ بھارت کو اپنی آبادی کو ایک بوجھ کے بجائے ایک اثاثہ بنانے کے لیے کئی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد کو اگر مناسب روزگار اور مہارت فراہم نہ کی گئی تو یہ ایک سماجی اور معاشی بحران کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ بھارت کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ کس طرح اپنی بڑی آبادی کو ایک مثبت قوت میں تبدیل کرتا ہے۔ اگرچہ غربت میں کمی کے لیے کچھ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں لیکن اصل چیلنج غربت کو مکمل طور پر ختم کرنا اور دولت کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔ اس کے لیے بھارت کو تعلیم اور ہنر مندی میں سرمایہ کاری کے ذریعے نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیم اور ہنر مندی فراہم کرناہوگی تاکہ وہ روزگار کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں جبکہ دیہی علاقوں میں غربت کو کم کرنے کے لیے زرعی اصلاحات، چھوٹے کاروباروں کی حوصلہ افزائی اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر زور دینا ہوگا۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو امریکی پابندیوں کے بعد بھارتیوں کا جینا مشکل ہو جائے گا ۔

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: فیصد ٹیرف میں اضافہ پر 50 فیصد بھارت پر سے بھارت بھارت کے بھارت کی کیا گیا سکتا ہے کے لیے گیا ہے

پڑھیں:

فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام

سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔

یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟

30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:

’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘

اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔

اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:

’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘

اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔

ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:

’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘

اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔

اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:

’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘

اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔

اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔

        View this post on Instagram                      

حقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟

اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔

ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔

اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:

’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘

"An Indian thrashed in Thailand." ????

A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.

As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF

— Suraj Kumar Bauddh (@SurajKrBauddh) January 3, 2026

 

دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔

خبر کی سرخی تھی:

’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘

رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔

ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔

فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار

یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔

یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی