UrduPoint:
2026-07-24@06:26:16 GMT

بھارت شام کی نئی حکومت سے قربت کیوں بڑھا رہا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT

بھارت شام کی نئی حکومت سے قربت کیوں بڑھا رہا ہے؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 08 اگست 2025ء) بھارت نے شام کی ترجیحات اور منصوبوں کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے جولائی کے آخر میں پہلی مرتبہ ایک سرکاری وفد کو دمشق بھیج کر عبوری حکومت سے رابطہ قائم کیا۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری سریش کمار نے شامی وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں، جو اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ بھارت شام کے اندرونی سیاسی حالات سے قطع نظر مضبوط تعلقات کو برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

اعلیٰ سطحی سفارت کاری

ان ملاقاتوں میں صحت کے شعبے میں تعاون، تکنیکی و تعلیمی اشتراک، اور انسانی امداد و مستقبل کی تعمیر نو کی بنیاد رکھنے جیسے موضوعات پر بات چیت کی گئی۔

شام کے طویل عرصے سے اقتدار میں رہنے والے آمر بشار الاسد کو دسمبر میں ایک باغی اتحاد نے اقتدار سے ہٹا دیا، جس کی قیادت بنیادی طور پر ہیئت تحریر الشام (ایچ ٹی ایس ) کر رہا تھا، اور جسے شامی نیشنل آرمی اور ترکی کی حمایت یافتہ دیگر تنظیموں کا تعاون حاصل تھا۔

(جاری ہے)

اب شام کی عبوری قیادت ایچ ٹی ایس کے سابق رہنما احمد الشرع کے ہاتھ میں ہے، جسے سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات، قطر اور امریکہ جیسے علاقائی و عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل ہو چکی ہے۔

خطرات اور مواقع کے درمیان توازن

ماہرین اور سفارت کاروں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ شام کی عبوری حکومت کے ساتھ بھارت کا رابطہ جنگ زدہ ملک کی تعمیرِ نو میں خود کو پسِ پشت ڈالے جانے سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی کے سینٹر فار ویسٹ ایشین اسٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر مدثر قمر نے کہا کہ بھارت کی یہ حکمت عملی اس کی غیر جانبدار طاقت کے طور پر اس شبیہ کو تقویت دیتی ہے جو مختلف حکومتوں کے ساتھ روابط قائم کر کے استحکام کو فروغ دینا چاہتی ہے۔

قمر نے کہا، ’’قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ بھارت کے علاقائی دوست، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، شام کو اس اہم عبوری مرحلے میں بھرپور مدد فراہم کر رہے ہیں، اور یہ بھارت کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

اس پیش رفت سے بھارت کی خارجہ پالیسی میں نئی جرات مندی کا مظاہرہ ہوتا ہے۔‘‘

قمر نے مزید کہا، ’’شام ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں بھی ایک اہم مہرہ کے طور پر ابھر رہا ہے، جو بھارت کے علاقائی مفادات کے لحاظ سے اسے اسٹریٹجک طور پر اہم بناتا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا،’’بھارت کا شام کے مستقبل میں توانائی، اقتصادی اور اسٹریٹجک مفادات موجود ہیں، اس لیے نئی حکومت کے ساتھ محتاط انداز میں تعلقات قائم کرنا بہت اہم ہے۔

‘‘ بھارت کے ’اسٹریٹجک مفادات‘

مدثر قمر نے نشاندہی کی کہ ایک مستحکم شام تجارتی راستوں اور توانائی کی راہداریوں کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے، جو بھارت کی معیشت کے لیے نہایت اہم ہیں۔ خاص طور پر جب وہ خلیجی ریاستوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو گہرا کر رہا ہے اور ایران سے متعلق تناؤ کا سامنا کر رہا ہے۔

دسمبر میں نئی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے شام میں کئی بار فرقہ وارانہ تشدد کی لہریں دیکھنے میں آئی ہیں۔

ایک خودمختار تحقیقی فورم، منترایا، کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر شانتی ماریٹ ڈی سوزا نے کہا کہ بھارت کے شام میں کئی اسٹریٹجک مفادات ہیں، جن میں وہاں موجود بھارتی شہریوں کے مفادات کا تحفظ بھی شامل ہے، اور یہ تبھی ممکن ہے جب وہ نئی حکومت سے تعلقات برقرار رکھے۔

ڈی سوزا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، نئی حکومت اب بھی شدید غیر استحکام کا شکار ہے، اور تعمیر نو و انسانی امداد کی شکل میں کوئی بھی مدد اس کے لیے قابلِ قبول ہو گی۔

انہوں نے مزید کہا، ’’بھارت کا نئی حکومت سے رابطہ علاقائی استحکام کو مضبوط بنانے کی ایک کوشش بھی ہے، تاکہ نئی حکومت کو شدت پسند گروہوں سے شام کو محفوظ رکھنے کے قابل بنایا جا سکے۔‘‘

ڈی سوزا نے کہا کہ بشار الاسد کے بعد کی شام سے تعلقات جلد قائم کر کے بھارت نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کر رہا ہے بلکہ اس اسٹریٹیجک خلا کو بھی پُر کر رہا ہے جسے دیگر قوتیں استعمال کر سکتی تھیں۔

بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد کئی ممالک نے شام کی نئی حقیقتوں کو اپنی پالیسی میں شامل کیا ہے۔ ان میں وہ ممالک بھی شامل ہیں جنہوں نے اسد حکومت سے تعلقات قائم رکھے، اور وہ بھی جو اس کے زوال کے خواہاں تھے۔ ان سب کے فیصلے استحکام، اثر و رسوخ اور علاقائی سلامتی جیسے بنیادی مفادات پر مبنی تھے۔

ڈی سوزا نے کہا کہ اس کے برعکس، بھارت نے ابتدا میں مبہم رویّے کا مظاہرہ کیا۔

بھارتی سفارت کار کا دمشق کا دورہ اس بات کا اعتراف ہے کہ شام میں اسد کا دور ختم ہو چکا ہے، اور بھارت کو نئی حکومت کے ساتھ تعلقات کی پالیسی از سر نو ترتیب دینی ہوگی، کیونکہ یہی اب طاقت کا نیا مرکز ہے۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ شام کی عبوری قیادت کے ساتھ بھارت کا حالیہ رابطہ افغانستان میں نئی دہلی کی عملی حکمتِ عملی جیسا ہے، جہاں وہ بیس سال تک جمہوری حکومت کی حمایت کے بعد اب طالبان حکمرانوں کے ساتھ روابط بڑھا رہا ہے۔

کیا یہ بھارت کے لیے دروازہ کھولے گا؟

بھارت کی وزارتِ خارجہ کے حکام نے اشارہ دیا ہے کہ شام کی خانہ جنگی کے دوران، جب عملہ کم کر دیا گیا تھا، تب بھی دمشق میں اپنا سفارت خانہ برقرار رکھنا بھارت کی طویل المدتی اسٹریٹجک سوچ کا مظہر تھا۔
سابق بھارتی سفارت کار انیل تریگونایَت نے ڈی ڈبلیو کو بتایا ’’بھارت نے ہمیشہ شام اور اس کے عوام کے ساتھ تاریخی اور تہذیبی تناظر میں بھی اچھے تعلقات قائم رکھے ہیں۔

بھارت نے ہمیشہ مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے شامی قیادت میں مسائل کے حل کی حمایت کی ہے۔‘‘

تریگونایَت، جو نئی دہلی کے تھنک ٹینک ’ویویکانند انٹرنیشنل فاؤنڈیشن‘ میں مغربی ایشیا کے ماہرین کے گروپ کی سربراہی کرتے ہیں، نے کہا کہ بھارت کے شام کے ساتھ تعلقات دو طرفہ تعلقات کا حصہ ہیں جیسے کہ وہ دیگر ممالک سے رکھتا ہے۔

انہوں نے شام کے عبوری رہنما کا حوالہ دیتے ہوئے کہا،’’ایران شام میں کمزور پوزیشن پر ہے، لیکن ترکی کا الشرع پر مضبوط اثر و رسوخ ہے، اور وہ سمجھداری سے بھارت سمیت مغربی اور عرب ممالک کے ساتھ بھی روابط بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

’’اسی طرح بھارت کو بھی مغربی ایشیا کے تمام شراکت داروں، بشمول شام کے ساتھ، رابطے میں رہنا چاہیے، خواہ وہاں خلاء ہو یا نہ ہو۔‘‘

ادارت: صلاح الدین زین

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ڈی سوزا نے نئی حکومت کر رہا ہے نے کہا کہ حکومت سے بھارت نے بھارت کے بھارت کا انہوں نے کہ بھارت کی حمایت بھارت کی حکومت کے کے ساتھ شام کی کے لیے کے بعد شام کے کہ شام

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • 5 دنوں میں پٹرول اور ڈیزل اوسطاً 54 روپے بڑھا دیا گیا: تیمور جھگڑا