برطانوی وزیر برائے بے گھری کرایہ داروں کو بیدخل کرنے کے الزامات پر مستعفی
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
برطانیہ کی وزیر برائے بے گھری نے اپنے زیرِ ملکیت مکان سے کرایہ داروں کو بے دخل کرنے اورکرایوں میں سینکڑوں پاؤنڈز کے اضافے کے الزامات کے بعد استعفیٰ دے دیا۔
جمعرات کو برطانوی وزیرِاعظم کیئراسٹارمر کو بھیجے گئے اپنے استعفے میں وزارتِ ہاؤسنگ کی جونیئر وزیر رُوشناراعلی نے کہا کہ بطور مالک مکان وہ ہمیشہ ’قانونی تقاضوں کی مکمل پابندی‘ کرتی رہی ہیں۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، مشرقی لندن میں موجود روشناراعلی کا 4 بیڈ روم کا مکان گزشتہ سال فروخت کے لیے پیش کیا گیا، جس پروہاں مقیم 4 کرایہ داروں کو نکال دیا گیا۔ یہ مکان 3 ہزار 3سو پاؤنڈ ماہانہ کرائے پرتھا، تاہم خریدار نہ ملنے پر چند ہفتے بعد اسے دوبارہ کرائے پردیدیا گیا، لیکن اس مرتبہ کرایہ 4 ہزار پاؤنڈ ماہانہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں:
رُوشنارا علی، جو پہلے کرایہ داروں کے ساتھ ’غیر معقول کرایوں میں اضافے‘ کی مخالفت کر چکی ہیں، نے اپنے خط میں لکھا کہ وہ ہمیشہ اپنی ’ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے‘ ادا کرتی رہی ہیں اورحقائق اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ تاہم، ان کے مطابق، اس عہدے پر رہنا حکومت کے اہم کاموں میں رکاوٹ بن سکتا ہے، اس لیے انہوں نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر فخر کرتی ہیں کہ گزشتہ ایک سال میں حکومت کی تبدیلی کے عمل میں انہوں نے کردار ادا کیا۔ ان کے بقول، نائب وزیرِاعظم کے ساتھ مل کر انہوں نے سوشل اور کم لاگت رہائش کے لیے ریکارڈ سرمایہ کاری اور بے گھری و کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے والوں کی مدد کے لیے تقریباً ایک ارب پاؤنڈزکا فنڈ حاصل کیا۔
برطانیہ میں کرایہ داری کے معاہدوں کے خاتمے کو بے گھری کی بڑی وجوہات میں شمار کیا جاتا ہے، وزیر اعظم کیئراسٹارمرکی حکومت فی الحال ’رینٹرزرائٹس بل‘ تیار کر رہی ہے، جس کے تحت مکان مالکان کو مختصر نوٹس پر ’بلا وجہ‘ بے دخل کرنے اور 6 ماہ کے اندر زیادہ کرائے پر دوبارہ مکان دینے پر پابندی عائد کی جائے گی۔
مزید پڑھیں:
رُوشنارا علی، لیبر پارٹی کی چوتھی وزیر ہیں جنہوں نے دباؤ کے تحت استعفیٰ دیا ہے، اس سے قبل ٹرانسپورٹ وزیر لوئز ہیگ، انسدادِ بدعنوانی کی وزیر ٹیولِپ صدیق اورجونیئروزیرِصحت اینڈریوگوئنے بھی مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے عہدوں سے الگ ہو چکے ہیں۔
یہ سلسلہ وزیرِاعظم اسٹارمر کی حکومت کے لیے ایک بڑی سیاسی مشکل بن گیا ہے، خاص طور پر اس وقت جب رائے عامہ کے جائزوں میں ان کی جماعت لیبر پارٹی، نائجل فراج کی دائیں بازو کی عوامی جماعت ریفارم یو کے سے پیچھے جا رہی ہے جبکہ ایک سال پہلے ہی لیبر نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔
پولنگ فرم یوگووکے جون کے سروے کے مطابق، اگرابھی انتخابات ہوتے ہیں تو 650 میں سے 271 نشستیں ریفارم یو کے جبکہ حکمران لیبر پارٹی کو 178 نشستیں ملیں گی، دوسری جانب حزبِ اختلاف کی کنزرویٹو پارٹی کے چیئرمین کیون ہولن ریک نے وزیر اعظم کیئراسٹارمرپر’منافقت اورذاتی مفاد کی حکومت‘ چلانے کا الزام عائد کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
استعفے اینڈریوگوئنے برطانیہ بے دخل ٹرانسپورٹ وزیر ٹیولپ صدیق روشنارا علی ریفارم یو کے کرائے کنزرویٹو پارٹی کیئر اسٹارمر کیون ہولن ریک لوئز ہیگ لیبر پارٹی مکان نائجل فراج وزارت ہاؤسنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: استعفے برطانیہ ٹرانسپورٹ وزیر ٹیولپ صدیق روشنارا علی ریفارم یو کے کنزرویٹو پارٹی کیئر اسٹارمر لوئز ہیگ لیبر پارٹی مکان وزارت ہاؤسنگ کرایہ داروں لیبر پارٹی انہوں نے بے گھری کے لیے
پڑھیں:
وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
سٹی 42: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، صنعتی ترقی اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبوں میں اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر غور کیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صنعتی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اور دیرپا پالیسی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
وزیراعظم نے کہا کہ صنعت، تجارت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات عوامی فلاح اور طویل المدتی معاشی استحکام پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ انہوں نے متبادل توانائی کے ذرائع کے فروغ اور مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے مؤثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں متعارف کرانے کے لیے وزارتوں اور ماہرین کے درمیان مؤثر مشاورت یقینی بنائی جائے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔