کندیاں: سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ، 2 ملک دشمن ہلاک، 6 فرار
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کے دوران کندیاں کے علاقے میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں 2 ملک دشمن مارے گئے جبکہ 6 اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق کارروائی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی تھی تاہم جیسے ہی ٹیم موقع پر پہنچی دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کر دی، جوابی کارروائی میں 2 دہشت گرد ہلاک ہوئے جن کی ہلاکت ان کے اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہوئی۔ترجمان کے مطابق جائے وقوعہ سے رائفلیں، دو دستی بم، گولیاں اور بارودی مواد برآمد کر لیا گیا ہے، فرار ہونے والے دہشت گردوں کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے جبکہ کندیاں کے قریبی علاقوں میں ناکہ بندی کر دی گئی ہے تاکہ دہشت گردوں کا فرار ممکن نہ ہو سکے۔ہلاک دہشت گردوں کی شناخت کا عمل جاری ہے جبکہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ یہ گروہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کی منصوبہ بندی مکمل کر چکا تھا۔ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ مشکوک افراد یا سرگرمیوں کی فوری اطلاع قریبی پولیس یا سکیورٹی اداروں کو دیں تاکہ دہشت گردی کی کسی بھی ممکنہ کارروائی کو بروقت روکا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔