پنجاب؛ پاکستان کی تاریخ کا پہلا ٹنل بورنگ سیوریج منصوبہ منظور
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
لاہور:
شہریوں کی روزمرہ زندگی میں خلل ڈالے بغیر، زیر زمین سیوریج کی تنصیب کے لیے پاکستان کی تاریخ کا پہلا ٹنل بورنگ سیوریج منصوبہ منظور کر لیا گیا۔
ایگزیکٹو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل (ایکنک) نے منصوبے کی منظوری دے دی، ایکنک کونسل کی صدارت ڈپٹی پرائم منسٹر اسحاق ڈار نے کی۔
ترجمان محکمہ ہاؤسنگ پنجاب کے مطابق لاریکس کالونی سے گلشن راوی تک 32 کلومیٹر سے زائد سیوریج لائن کی تنصیب کی جائے گی، منصوبے سے وسطی لاہور کے گنجان آباد علاقوں کے نکاسی آب کے نظام کا دیر پا حل ممکن ہو سکے گا۔
منصوبے کی تکمیل سے تقریباً 25 لاکھ کی آبادی براہ راست مستفید ہو سکے گی، ٹنل بورنگ منصوبہ نہ صرف لاہور بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ پائپ کی تیاری جدید ورٹیکل اسپننگ مشین سے کی جائے گی، ورٹیکل اسپننگ ٹیکنالوجی سے پائپ کی عمر تقریباً 100 سال سے زائد ہو جاتی ہے، وسائل کی بچت کے لیے منصوبے کی تکمیل کے بعد شہر میں قائم 22 سے زائد لفٹ اسٹیشنز کو بند کر دیا جائے گا۔
منصوبے کی پلاننگ اور ڈیزائن معروف امریکی کنسلٹنٹ EBA Engineering نے کی ہے جبکہ اس کا باقاعدہ آغاز ہونے کے بعد تکمیل جون 2028 تک ہوگی۔ ٹنل بورنگ سے سیوریج نظام کو بابو صابو ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سے منسلک کیا جائے گا۔
ترجمان محکمہ ہاؤسنگ کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ذاتی دلچسپی، ویژن اور قیادت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پنجاب حکومت کا ٹنل بورنگ منصوبہ شہری سہولیات میں بہتری کے لیے جاری جدوجہد کا مظہر ہے، یہ منصوبہ لاہور کے لاکھوں شہریوں کے لیے بہتر، جدید اور باوقار زندگی کی جانب اہم قدم ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان منصوبے کی کے لیے
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔