راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی طلباء کے ساتھ خصوصی نشست
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 اگست 2025ء ) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی میں طالب علموں کے ساتھ ایک خصوصی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے مطابق اس نشست کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے طلباء کے ساتھ کھل کر گفتگو کی اور اس موقع پر ایک سوال و جواب کا خصوصی سیشن بھی منعقد کیا گیا۔
بتایا گیا ہے کہ نشست کے دوران طلباء نے اس سیشن کی بھرپور پذیرائی کی اور اس موقع پر قومی جذبے کا بھی اظہار کیا، نشست میں طلباء نے اپنی یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مواقع وقت کی اہم ضرورت ہیں جن کے ذریعے نوجوان نسل کو ملکی دفاع اور افواج پاکستان سے جوڑا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر طلباء نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ وطن دشمن عناصر چاہے جتنی بھی کوشش کرلیں مگر نوجوان نسل کو اپنی افواج سے دور نہیں کرسکتے، افواج ہم سے ہیں اور ہم افواج سے ہیں، پاکستان کے خلاف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کے خلاف ہم اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہیں۔(جاری ہے)
چند روز قبل ڈائریکٹر جنرل انٹرسروسز پبلک ریلیشنز لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے طلبہ کے ساتھ خصوصی نشست میں معرکہ حق (آپریشن بنیان مرصوص) کی زبردست فتح کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی، انہوں نے خصوصی طور پر معرکہ حق کے دوران نوجوانوں کے جذبے، سوچ اور حب الوطنی کو سراہا جب کہ طلباء نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے معاشرتی و قومی امور بالخصوص سکیورٹی کے تناظر میں کھل کر سوالات کیے۔ مسلح افواج کے ترجمان ادارے نے بتایا کہ نشست کے اختتام پر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے طلباء نے خصوصی طور پر ملی نغمے کے ذریعے پاک فوج کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا اور قومی اتحاد کی بہترین ترجمانی کی، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے طلبہ نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ نشست کو خوش آئند قرار دیا اور مستقبل میں بھی ایسی نشست کے اہتمام کی دلی خواہش کا اظہار کیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے آئی ایس پی آر طلباء نے کے ساتھ نشست کے
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔