اسے بالکل معلوم نہ تھا کہ سندھ کا بہادر سپوت اورکلہوڑا دور کا جنگجو جنرل ’’ ہوشو شیدی‘‘ کون تھا، نہ ہی وہ یہ جانتا تھا کہ سندھ کے پسماندہ شہر ٹنڈوالہیار کے شیدی پاڑہ میں اس کے اجداد کیوں آکر آباد ہوئے تھے، وہ بس شیدی پاڑہ میں محلے کے دیگر دوستوں کے ساتھ کھیل کود کر جب اسکول جانے کی عمر تک پہنچا تو اس کے گھر کی معاشی تنگ دستی اس کے ساتھ ساتھ رہی، وہ پڑھنے کے شوق میں گھر کی معاشی بہتری کے لیے ہر کام کرنے پر راضی ہو جاتا تھا۔
ماں نے چھولے ابال کردیے تو اسکول سے آنے کے بعد وہ ابلے ہوئے چھولوں کا تھال سنبھال کر جب شام کو گھر لوٹتا تو تھکن کے باوجود دوبارہ سے پڑھنے میں جت جاتا تھا اور علم کے حصول میں گھر کے تمام کام کرنے پر راضی ہوجاتا تھا۔ ماں نے پکوڑے بیچنے کے لیے بھیجا تو یہ اس پر بھی بغیر کسی چوں چرا راضی ہوگیا، پڑھنے میں ذہین ہونے کے ناتے وہ جلد اساتذہ میں پہچانا جانے لگا، صبح سویرے اٹھ کر اسکول جانے اور اسکول کے بعد گھرکی معاشی محرومی میں ہاتھ بٹانے کی غرض سے وہ چھولے اور پکوڑے بیچنے پر چلا جاتا تھا۔
اسی دوران وہ اکثر چھولے اور پکوڑے دینے والے اخبارات پڑھتا رہتا تھا، پڑھنے کی اس لگن یا شاید اسے شیدی پاڑہ میں رہنے کی بنا ’’ ہوشو شیدی‘‘ کے قصے اور بہادری بہت بھاتی تھی، شیدی اور بہادری کے لفظ کو وہ اپنی زندگی کی عملی تفسیر بنانا چاہتا تھا۔
اسی واسطے وہ ارد گرد کے سیاسی ماحول سے واقف ہوتا رہتا، اس نے علم حاصل کرنے اور اپنے اندر بہادرانہ انداز کا اظہار اپنے ہم عمر بچوں کے حقوق کی آواز اٹھانے سے کیا اور پھر سیاسی شعور کے ادراک کے ساتھ ’’ سندھی بارڑا ‘‘ کے بعد وہ طلبہ حقوق کی تنظیم ایس این ایس ایف کا متحرک رکن ٹہر گیا۔
ٹنڈو الہیار کے شیدی پاڑہ کے اس بالک کی صلاحیتوں کو ’’ نذیر‘‘ بنانے میں کمیونسٹ فکر نے جب اس کے ذہن کے دریچے وا کیے تو وہ مظلوم و مجبور اور تنگ دست عوام کے جمہوری حقوق کی مضبوط آواز بنا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ ملک میں جمہوری اور انسانی حقوق کی جدوجہد کو پہلے ہی ضیائی مارشل لا نے تہہ تیغ کردیا تھا، اب وہ جنرل زاد کمیونسٹ فکر کی سوچ کے نذیر عباسی کے خاتمے سے کم پر رضامند نہ تھے۔ گلی گلی نذیر عباسی کی تلاش کی گئی۔
نذیر عباسی کی جدوجہد کے تمام راستوں میں رکاوٹیں بچھا دی گئیں، مگر شیدی پاڑے کا نذیر عباسی ہوشو شیدی کی طرح بے خوف و خطر کمیونسٹ آدرش کو عام عوام تک پہنچانے میں جتا رہا، وہ ملنگانہ وار ہر طریقے سے عوام تک پہنچ کر کمیونسٹ جدوجہد کے لیے عوام کو جوڑتا رہا، سیاسی تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ کمیونسٹ آدرش کی سچائی سے نذیر عباسی منکر نہ ہوا اور آخرکار کمیونسٹ نظریے کا یہ شیدی آمر جنرل ضیا کے قہر کا نشانہ بنا کر عقوبت خانے میں 8 اگست کی شب قتل کردیا گیا۔
یہ 1980 کی دہائی کے دلسوز واقعے کا عکس ہے، جہاں چند سال پہلے یہاں کی منتخب حکومت کو ایک آمرانہ مزاج رکھنے والے آمر جنرل ضیا نے آئین اور قانون کو تار تار کر کے عوامی رائے پر نظریہ ضرورت کی آڑ میں غیر آئینی طور پر ملک کے وزیراعظم کو تختہ دار پر پھانسی دے کر فاتحانہ انداز سے 90 روز کے انتخابات کروانے کے وعدے کا بھی خیال نہیں کیا تھا۔
ہر جا مذہبی تنگ نظری کو کھلے عام بیچا جا رہا تھا، ہر طرف غیر آئینی مارشل لا کے مہیب سناٹوں کا چلن عام تھا، آج کی ملکی صورتحال میں بھی ایسا کیوں لگتا ہے کہ ملک کے سونا اگلتے معدنی ذرایع کو امریکی سامراج کے حوالے کر کے دوبارہ ’’ افغان جہاد‘‘ کی یاد تازہ کی جارہی ہے، لیکن کوئی بھی نذیر عباسی کے کمیونسٹ آدرش کی لاج رکھنے والا نظر نہیں آرہا۔
یاد رہے کہ ہوشو شیدی کی بہادری کو عملی شکل دینے والا کمیونسٹ آدرش کا پالنہار نذیر عباسی، آج پھر اپنی بھٹکتی روح کے ساتھ ٹنڈو الہیار کے شیدی پاڑہ میں کھڑا ان گلیوں اور ان پسے ہوئے طبقات کو بے آسرا دیکھ رہا ہے جن کے لیے ’’ نذیر‘‘ سولی پر فاخرانہ انداز سے چڑھا۔ نذیر عباسی آج اپنے بچپن کے شیدی پاڑہ میں بہت اداس و غمگین ہے، وہ تو کمیونسٹ آدرش کا دم بھرنے والے، اس کی یاد میں جلسے، سیمینار اور کانفرنس کرنے والے اور اس کی تصویر کے اسٹیٹس ڈال کر خود کے ساتھ مظلوم و محکوم عوام کو دھوکا دینے والوں پر رو بھی نہیں سکتا ہے۔
نذیر عباسی جانتا ہے کہ اس کی برسی سے کوئی اپنی ساکھ، کوئی اپنی نام نہاد دانشوری اور کوئی اپنی کھوکھلی نظریاتی سیاست کو جھوٹا سہارا دے کر عوام کو سبز باغ دکھا رہا ہے۔
نذیر عباسی بخوبی واقف ہے کہ کمیونسٹ آدرش کا دم بھرنے والے ہی آج کی نظریاتی کمیونسٹ سیاست کے وہ مجرم ہیں جو عوام کی جمہوری آزادی اور عوام کی غیر طبقاتی فکر کی کمیونسٹ پارٹی کو نہ منظم کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی طبقاتی جدوجہد کی وہ دشواریاں جھیلنا چاہتے ہیں جو ہوشو شیدی سے لے کر حسن ناصر اور میں نے یا دوستوں نے جھیلیں۔
نذیر عباسی کو افسوس ہے کہ اسے رسم اور پوجا پاٹ یا مفادات کا وہ بت بنا دیا گیا ہے، جن بتوں کو پاش پاش کرنے میں نذیر نے خود سے موت کا انتخاب کیا، اسے علم ہے کہ کسی کی قربانی پر کسی کو خراج پیش کرنے سے بہتر ہے کہ یہ جانا اور سوچا جائے کہ مظلوم طبقات کی نجات عہد جدید میں کمیونسٹ طبقہ اور ’’ایک کمیونسٹ‘‘ پارٹی کیسے کرسکتی ہے؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کمیونسٹ ا درش شیدی پاڑہ میں ہوشو شیدی کے ساتھ حقوق کی کے لیے
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔