ڈی جی آئی ایس پی آر کی راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی میں طلبہ کیساتھ خصوصی نشست
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
راولپنڈی (اپنے سٹاف رپورٹر سے)ترجمان آئی ایس پی آر کے مطابق راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی طلبہ سے خصوصی نشست کا انعقاد کیاگیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے طلبہ سے کھل کر بات چیت کی اور سوال و جواب کا خصوصی سیشن ہوا طلبہ کی طرف سے اس سیشن کی بھرپور پزیرائی اور قومی جذبے کا اظہار کیا ہے ۔ طلبہ نے افواج پاکستان سے بھرپور یکجہتی کا اعلان کیا۔ طلبہ نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا"ایسی نشست کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔" وطن دشمن عناصر جتنی بھی کوشش کر لیں مگر نوجواں نسل کو اپنی افواج سے دور نہیں کر سکتے، طلبہ نے کہا کہ افواج ہم سے ہیں اور ہم افواج سے ہیں پاکستان کیخلاف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کیخلاف ہم اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ایس پی
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔