Islam Times:
2026-07-24@12:18:27 GMT

موضوع: شہیدقائد عارف حسین  الحسینی اور راہ مقاومت

اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT

‍‍‍‍‍‍

ویلاگ اسلام ٹائمز اردو کی پیشکش ہے، جس میں اہم خبروں سے متعلق مفید تبصرے پیش کئے جاتے ہیں۔ ہر ہفتے کے روز، مختصر و مفید ویلاگز، دیکھنے و سننے والوں کی خدمت میں پیش کئے جائیں گے۔ سامعین سے گزارش ہے کہ یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں اور اپنی مفید آراء سے مطلع فرمائیں۔ متعلقہ فائیلیںتجزیہ انجم رضا کے ساتھ
(بمناسبت برسی شہید قائد)
موضوع: شہیدقائد عارف حسین  الحسینی اور راہ مقاومت
مہمان تجزیہ نگار: انجنیئر سید علی رضا نقوی
میزبان و پیشکش: سید انجم رضا
اہم موضوعات و سوالات:
سوال 1
شہید عارف الحسینی بھکر میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے قائد انتخاب ہوئے، کیا آپ اپنی قیادت سے قبل بھی فعال تھے؟ قیادت کے بعد کی زندگی کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟
سوال:2
شہید عارف حسین الحسینی پاکستان میں کس قسم کے سیاسی نظام کے قائل تھے اور آپ نے اپنی جدوجہد میں دوسری جماعتوں اور اهلسنت عوام کے ساتھ کیسا رابطہ رکھا؟
سوال:3
عالمی سطح پر شہید امریکہ ، اسرائیل اور استکباری نظام کے شدید مخالف تھے اور امام خمینی رہ کے ساتھ عقیدتی وابستگی تھی؟ کیا یہ رابطہ شیعہ مذہبی ہونے کی بنا پر تھا اور آپ عالمی سطح پر استقامتی محاذ اس زمانے میں افغان جہاد اور لبنان میں صیہونیت مخالف تحریک کو کس نظر سے دیکھتے تھے ؟
سوال:4
آج کے دور میں ہم کس طرح شہید حسینی کو اپنا آئیڈیل مان سکتے ہیں اور ان کی زندگی سے کس طرح درس لے سکتے ہیں؟
 
خلاصہ گفتگو و اہم نکات:
شہیدقائد عارف حسین  الحسینی ایک ملکوتی انسان تھے
شہید قائد نظریہ ولایتِ فقیہ کے حامی اور محافظ بن کر  پاکستان میں سرگرمِ عمل تھے
شہیدقائد  کی قیادت اسلامیان پاکستان کے لئے ایک معجزہ کی سی صورت تھی
شہیدقائد  کی بصیرت امام خمینی کی تربیت کا عملی اظہار تھی
شہیدقائد     اپنی دلیری اور زعامت کی بنا پہ اپنے زمانے کے سید مقاومت تھے
شہیدقائد عارف حسین  الحسینی ایک پیدائشی انقلابی نوجوان ورکر تھے
شہیدقائد عارف حسین  الحسینی کی تمام زندگی متحرک   اور فعالیت کا مظہر ہے
شہیدقائد   پہ بہت کچھ لکھ جاچکا ہے مگر اُن کی زندگی کے بہت سے اہم پہلو بیان کرنے کی  اب بھی ضرورت ہے
شہید قائد نجف میں  تعلیم کے دوران امام خمینی سے بھی اکتسابِ فیض کرتے رہے
شہید قائد نجف میں حصول تعلیم کے دوران مسلط بعثی حکومت کے خلاف بھی سرگرمِ عمل رہے
۱۹۷۴  سے قم میں آیت اللہ مطہری،آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی، آیت اللہ وحید خراسانی  سے دروس پڑھے
ایران میں شاہ ایران کے خلاف تحریک میں آپ نے آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ ملک کر حصہ لیا
آپ کا شمار ان غیرایرانی طلاب میں ہے جن کو  قید و بند اورساواک کا ظلم تشدد برداشت کرنا پڑا
۱۹۷۷ میں آپ کوایران سے سے  ملک بدر کرکے واپس پاکستان بھیج دیا گیا
پاکستان میں مدرسہ جعفریہ پاراچنار میں آپ نے تدریس کا سلسلہ شروع کردیا
آپ  کرم ایجنسی  میں ایک فعال اور متحرک رہنما کے طور پہ    سرگرم ِ عمل ہوگئے
شہیدقائد پاراچنار کے تمام حلقوں میں ، قبائل میں  بہت احترام کا مقام رکھتے تھے
کرم ایجنسی کے  برادرانِ اہل سُنت برادران بھی شہیدقائد  کا بہت احترام کرتے تھے
شہیدقائد نےکرم ایجنسی میں باہمی مفاہمت، رواداری  کی فضا قائم کرنے میں بہت کردار ادا کیا
شہیدقائد نے پارا چنار کے قبائل میں  امن و آشتی کی فضا قائم کی
شہیدقائد اتحاد بین المسلمین کے صرف پرچارک ہی نہیں  بلکہ عملی طور پہ بھی قائل تھے
شہیدقائد نے پاکستان میں مارشل لائی جبروت کے زمانے میں قیادت کی ذمہ داریاں سنبھالیں
پاکستان کے ارد گرد بھی ایک طرف افغانستان میں   جنگ اور ایران عراق جنگ ہورہی تھی
اس زمانے میں  بھی بھارت اور استعماری طاقتیں پاکستان میں فرقہ ورانہ اختلافات کو ہوا دینے کے لئے سرمایہ خرچ کررہی تھیں
شہیدقائد  کی قائدانہ بصیرت اور  حکمت عملی نے ملت تشیع پاکستان کو فرقہ واریت کا ایندھن بننے سے بچایا
شہید قائد نے بحالی جمہوریت کے لئے سرگرمِ عمل سیاسی جماعتوں سے رابطہ کاری بڑھائی
شہیدقائد  کا  ایم آرڈی کے سیاسی اتحاد میں ایک محترم مقام تھا
اس زمانے کی چوٹی کی سیاسی قیادت شہیدقائد  کی رہنمائی اور مشورے پہ چلتی تھی
دسمبر 1984 میں ضیاالحق  کے کرائے جانے والے ریفرنڈم کی ناکامی میں شہیدقائد کی دی گئی حکمت عملی کارگر ثابت ہوئی
شہیدقائد  کی مدبرانہ قیادت نے پاکستان کے اہلِ تشیع ضیاالحق زمانے میں دوسرے درجے کا شہری بننے سے بچایا
شہید قائد نے دن رات محنت کرکے ملت تشیع پاکستان کو ایک متحد قوم بنادیا
ضیا الحق جیسا جابر و آمر  حکمران بھی شہیدقائد    کی شخصیت سے خوفزدہ تھا
شہید قائد نے اپنی چارسالہ قیادت میں  اتنے عظیم کام کئے ، پاکستان میں کسی رہنما نے ایسا نہیں کیا
اسیرانِ کوئٹہ کے لئے لانگ مارچ  کے اعلان نے ضیاالحق جیسی ظالم حکومت کے گھٹنے ٹیک دیئے
 
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: شہیدقائد عارف حسین تھے شہیدقائد پاکستان میں شہید قائد تھے شہید آیت اللہ کے ساتھ کے لئے

پڑھیں:

مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید

مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت جاری ہے جبکہ حالیہ حملے میں 4 فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شمالی مقبوضہ مغربی کنارے کے نابلس کے جنوب مغرب میں واقع قصبے طیل پر جمعہ کے روز اسرائیلی فوج اور اسرائیلی آبادکاروں کے حملے میں چار فلسطینی شہید اور چار زخمی ہوگئے، جن میں سے تین کی حالت نازک ہے۔

فلسطینی وزارت صحت نے ایک بیان میں کہا کہ نابلس کے جنوب مغرب میں واقع طیل میں ہلاکتوں کی تعداد چار ہو گئی ہے اور چار دیگر زخمی ہیں جن میں سے تین کی حالت نازک ہے۔

مقامی اور سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی قابضین نے قصبے میں فلسطینیوں کے گھروں پر حملہ کیا اور دو گھروں کی طرف براہ راست فائرنگ کی۔

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں اسرائیلی بمباری سے مسجد شہید، قریبی مکانات بھی تباہ
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت