Islam Times:
2026-06-03@07:24:13 GMT

موضوع: شہیدقائد عارف حسین  الحسینی اور راہ مقاومت

اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT

‍‍‍‍‍‍

ویلاگ اسلام ٹائمز اردو کی پیشکش ہے، جس میں اہم خبروں سے متعلق مفید تبصرے پیش کئے جاتے ہیں۔ ہر ہفتے کے روز، مختصر و مفید ویلاگز، دیکھنے و سننے والوں کی خدمت میں پیش کئے جائیں گے۔ سامعین سے گزارش ہے کہ یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں اور اپنی مفید آراء سے مطلع فرمائیں۔ متعلقہ فائیلیںتجزیہ انجم رضا کے ساتھ
(بمناسبت برسی شہید قائد)
موضوع: شہیدقائد عارف حسین  الحسینی اور راہ مقاومت
مہمان تجزیہ نگار: انجنیئر سید علی رضا نقوی
میزبان و پیشکش: سید انجم رضا
اہم موضوعات و سوالات:
سوال 1
شہید عارف الحسینی بھکر میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے قائد انتخاب ہوئے، کیا آپ اپنی قیادت سے قبل بھی فعال تھے؟ قیادت کے بعد کی زندگی کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟
سوال:2
شہید عارف حسین الحسینی پاکستان میں کس قسم کے سیاسی نظام کے قائل تھے اور آپ نے اپنی جدوجہد میں دوسری جماعتوں اور اهلسنت عوام کے ساتھ کیسا رابطہ رکھا؟
سوال:3
عالمی سطح پر شہید امریکہ ، اسرائیل اور استکباری نظام کے شدید مخالف تھے اور امام خمینی رہ کے ساتھ عقیدتی وابستگی تھی؟ کیا یہ رابطہ شیعہ مذہبی ہونے کی بنا پر تھا اور آپ عالمی سطح پر استقامتی محاذ اس زمانے میں افغان جہاد اور لبنان میں صیہونیت مخالف تحریک کو کس نظر سے دیکھتے تھے ؟
سوال:4
آج کے دور میں ہم کس طرح شہید حسینی کو اپنا آئیڈیل مان سکتے ہیں اور ان کی زندگی سے کس طرح درس لے سکتے ہیں؟
 
خلاصہ گفتگو و اہم نکات:
شہیدقائد عارف حسین  الحسینی ایک ملکوتی انسان تھے
شہید قائد نظریہ ولایتِ فقیہ کے حامی اور محافظ بن کر  پاکستان میں سرگرمِ عمل تھے
شہیدقائد  کی قیادت اسلامیان پاکستان کے لئے ایک معجزہ کی سی صورت تھی
شہیدقائد  کی بصیرت امام خمینی کی تربیت کا عملی اظہار تھی
شہیدقائد     اپنی دلیری اور زعامت کی بنا پہ اپنے زمانے کے سید مقاومت تھے
شہیدقائد عارف حسین  الحسینی ایک پیدائشی انقلابی نوجوان ورکر تھے
شہیدقائد عارف حسین  الحسینی کی تمام زندگی متحرک   اور فعالیت کا مظہر ہے
شہیدقائد   پہ بہت کچھ لکھ جاچکا ہے مگر اُن کی زندگی کے بہت سے اہم پہلو بیان کرنے کی  اب بھی ضرورت ہے
شہید قائد نجف میں  تعلیم کے دوران امام خمینی سے بھی اکتسابِ فیض کرتے رہے
شہید قائد نجف میں حصول تعلیم کے دوران مسلط بعثی حکومت کے خلاف بھی سرگرمِ عمل رہے
۱۹۷۴  سے قم میں آیت اللہ مطہری،آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی، آیت اللہ وحید خراسانی  سے دروس پڑھے
ایران میں شاہ ایران کے خلاف تحریک میں آپ نے آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ ملک کر حصہ لیا
آپ کا شمار ان غیرایرانی طلاب میں ہے جن کو  قید و بند اورساواک کا ظلم تشدد برداشت کرنا پڑا
۱۹۷۷ میں آپ کوایران سے سے  ملک بدر کرکے واپس پاکستان بھیج دیا گیا
پاکستان میں مدرسہ جعفریہ پاراچنار میں آپ نے تدریس کا سلسلہ شروع کردیا
آپ  کرم ایجنسی  میں ایک فعال اور متحرک رہنما کے طور پہ    سرگرم ِ عمل ہوگئے
شہیدقائد پاراچنار کے تمام حلقوں میں ، قبائل میں  بہت احترام کا مقام رکھتے تھے
کرم ایجنسی کے  برادرانِ اہل سُنت برادران بھی شہیدقائد  کا بہت احترام کرتے تھے
شہیدقائد نےکرم ایجنسی میں باہمی مفاہمت، رواداری  کی فضا قائم کرنے میں بہت کردار ادا کیا
شہیدقائد نے پارا چنار کے قبائل میں  امن و آشتی کی فضا قائم کی
شہیدقائد اتحاد بین المسلمین کے صرف پرچارک ہی نہیں  بلکہ عملی طور پہ بھی قائل تھے
شہیدقائد نے پاکستان میں مارشل لائی جبروت کے زمانے میں قیادت کی ذمہ داریاں سنبھالیں
پاکستان کے ارد گرد بھی ایک طرف افغانستان میں   جنگ اور ایران عراق جنگ ہورہی تھی
اس زمانے میں  بھی بھارت اور استعماری طاقتیں پاکستان میں فرقہ ورانہ اختلافات کو ہوا دینے کے لئے سرمایہ خرچ کررہی تھیں
شہیدقائد  کی قائدانہ بصیرت اور  حکمت عملی نے ملت تشیع پاکستان کو فرقہ واریت کا ایندھن بننے سے بچایا
شہید قائد نے بحالی جمہوریت کے لئے سرگرمِ عمل سیاسی جماعتوں سے رابطہ کاری بڑھائی
شہیدقائد  کا  ایم آرڈی کے سیاسی اتحاد میں ایک محترم مقام تھا
اس زمانے کی چوٹی کی سیاسی قیادت شہیدقائد  کی رہنمائی اور مشورے پہ چلتی تھی
دسمبر 1984 میں ضیاالحق  کے کرائے جانے والے ریفرنڈم کی ناکامی میں شہیدقائد کی دی گئی حکمت عملی کارگر ثابت ہوئی
شہیدقائد  کی مدبرانہ قیادت نے پاکستان کے اہلِ تشیع ضیاالحق زمانے میں دوسرے درجے کا شہری بننے سے بچایا
شہید قائد نے دن رات محنت کرکے ملت تشیع پاکستان کو ایک متحد قوم بنادیا
ضیا الحق جیسا جابر و آمر  حکمران بھی شہیدقائد    کی شخصیت سے خوفزدہ تھا
شہید قائد نے اپنی چارسالہ قیادت میں  اتنے عظیم کام کئے ، پاکستان میں کسی رہنما نے ایسا نہیں کیا
اسیرانِ کوئٹہ کے لئے لانگ مارچ  کے اعلان نے ضیاالحق جیسی ظالم حکومت کے گھٹنے ٹیک دیئے
 
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: شہیدقائد عارف حسین تھے شہیدقائد پاکستان میں شہید قائد تھے شہید آیت اللہ کے ساتھ کے لئے

پڑھیں:

دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا

تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کے دوسرے میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کے لیے 232 رنز کا ہدف دے دیا۔لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں پاکستان کے کپتان شاہین آفریدی نے ٹاس جیت کر آسٹریلیا کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔مہمان ٹیم نے پہلےکھیلتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹ پر 231 رنز اسکور کیے۔آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین 53، جوش انگلس 51 اور میٹ رنشا 43 رنز بنا کر نمایاں رہے۔پاکستان کی جانب سے کپتان شاہین آفریدی نے 3 جب کہ حارث رؤف ، عرفات منہاس اور ابرار احمد نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف پہلا ون ڈے جیتنے والی ٹیم کو ہی برقرار رکھا ہے۔خیال رہے کہ پہلے ایک روزہ میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 5 وکٹ سے شکست دی تھی، تین ایک روزہ میچوں کی سیریز میں پاکستان کو ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان