فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا امریکا کا سرکاری دورہ، اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت سے ملاقاتیں
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، چیف آف آرمی اسٹاف (COAS) امریکا کے سرکاری دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے اعلیٰ سطح کی سیاسی و عسکری قیادت کے علاوہ پاکستانی نژاد امریکی برادری سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ٹیمپا میں آرمی چیف نے امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے سبکدوش ہونے والے کمانڈر جنرل مائیکل ای۔کوریلا کی ریٹائرمنٹ تقریب اور نئے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کے چارج سنبھالنے کی تقریب میں شرکت کی۔
اس موقع پر انہوں نے جنرل کوریلا کی شاندار قیادت اور پاک امریکا عسکری تعلقات کو مضبوط بنانے میں ان کی خدمات کو سراہا، اور ایڈمرل کوپر کو نیک تمنائیں پیش کرتے ہوئے مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون کے تسلسل پر اعتماد ظاہر کیا۔
آرمی چیف نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین سے بھی ملاقات کی، جس میں باہمی پیشہ ورانہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ انہوں نے جنرل ڈین کین کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔ اس موقع پر دوست ممالک کے دفاعی سربراہان سے بھی غیر رسمی ملاقاتیں ہوئیں۔
پاکستانی نژاد امریکی برادری کے ساتھ ایک انٹرایکٹو سیشن میں فیلڈ مارشل نے انہیں پاکستان کے روشن مستقبل پر اعتماد رکھنے اور سرمایہ کاری کے فروغ میں فعال کردار ادا کرنے پر زور دیا۔ کمیونٹی نے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں بھرپور تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کمانڈر جنرل مائیکل ای۔کوریلا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کمانڈر جنرل مائیکل ای کوریلا فیلڈ مارشل
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔