غزہ میں خوراک کے متلاشی 40 افراد سمیت مزید 47 فلسطینی شہید، غذائی قلت سے 11فلسطینی دم توڑ گئے
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
غزہ میں خوراک کے متلاشی 40 افراد سمیت مزید 47 فلسطینی شہید، غذائی قلت سے 11فلسطینی دم توڑ گئے WhatsAppFacebookTwitter 0 10 August, 2025 سب نیوز
غزہ ( آئی پی ایس) غزہ میں اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملے نہ تھم سکے، قابض فوج نے مختلف علاقوں پر حملے کرکے صبح سے اب تک مزید 47 فلسطینیوں کو شہید کردیا۔
اسرائیلی فوج کے حملوں میں شہید ہونے والوں میں 40 وہ افراد بھی شامل ہیں جو خوراک کے حصول کے لیے پناہ گزین کیمپوں سے باہر نکلے تھے۔
عرب میڈیا کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی فوج کے حملوں کے باعث غزہ میں شہادتوں کی مجموعی تعداد 61 ہزار 369 ہوگئی جبکہ اس دوران ایک لاکھ 52 ہزار 850 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔
غزہ میں قحط کی صورتحال بھی برقرار ہے جہاں بھوک کی شدت سے مزید 11 فلسطینی شہید ہوگئے جس کے بعد غذائی قلت سے اموات 200 سے تجاوز کر گئیں۔
ادھر غزہ پر مکمل کنٹرول کے اسرائیلی مذموم منصوبے کے تحت فوجی ٹینک غزہ کے بارڈر پر پہنچنا شروع ہوگئے۔
فلسطینیوں نے بھی غزہ چھوڑنے سے صاف انکار کردیا، فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ وہ یہیں مریں گے اورکہیں نہیں جائیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکوئٹہ میں ریلوے ٹریک کے قریب دھماکا، جعفر ایکسپریس کی کئی بوگیاں پٹری سے اترگئیں کوئٹہ میں ریلوے ٹریک کے قریب دھماکا، جعفر ایکسپریس کی کئی بوگیاں پٹری سے اترگئیں کراچی، ڈمپر نے بھائی اور بہن کو کچل دیا، والد شدید زخمی، مشتعل ہجوم کے ہاتھوں 7 ڈمپر نذرآتش فلسطین فلسطینیوں کا ہے، بے دخلی کی کوشش ناقابل قبول ہے: ترک وزیرِ خارجہ بھارتی عوام اور حکومت سے دشمنی نہیں بلکہ پالیسیوں پر اختلاف ہے، وزیر مملکت پنجاب حکومت 31 سال بعد مقامی بینکوں کے قرضوں سے آزاد ہوگئی لاہور: 9 مئی جلا گھیرا ئوکے مزید 2 مقدمات کا فیصلہ محفوظCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔