چین کی ماحولیاتی گورننس کی جدت طرازی اور عالمی اثرات پر تھنک ٹینک کی رپورٹ کا اجراء
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
بیجنگ ()
جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں ماحولیاتی تحفظ اور اس کے عالمی اثرات میں چین کے جدید نقطہ نظر کی وضاحت کی گئی ہے۔اتوار کے روز
شنہوا نیوز ایجنسی سے وابستہ تھنک ٹینک اور ماحولیاتی تہذیب پر شی جن پھنگ کی سوچ کے تحقیقی مرکز نے مشترکہ طور پر یہ رپورٹ جاری کی جس کا عنوان “‘سرسبز پہاڑاورشفاف پانی انمول اثاثے ہیں’ایک خوبصورت منظر کی تشکیل دیتا ہے–حیاتیاتی تہذیبوں کی تعمیر میں چین کی جدت طرازی اور عالمی اہمیت”۔
رپورٹ میں “سرسبز پہاڑاورشفاف پانی انمول اثاثے ہیں ” کےتاریخی پس منظر، بنیادی سوچ اور اہمیت کا تفصیلی تعارف پیش کیا گیا ہے،نیز اس تصور کی نظریاتی جدت طرازی، چین میں اس پر عمل درآمد اور اس کی عالمی قدر کی وضاحت کی گئی ہے۔
امریکن انسٹی ٹیوٹ آف ایکولوجیکل سولائزیشن کے نائب صدر اینڈرو شوارٹز نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینا چین کی جدیدیت کی ایک منفرد خصوصیت بن گئی ہے۔ “سرسبز پہاڑ اور شفاف پانی انمول اثاثے ہیں” کے تصور میں گہری ماحولیاتی حکمت شامل ہے ،جو چین کی روایت “فطرت اور انسان کے اتحاد” سے ہم آہنگ ہے، اور عالمی ماحولیاتی تہذیب میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔