وزن کم کرنے کے لیے نئی مؤثر گولی آگئی، ایف ڈی اے منظوری رواں سال متوقع
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
نیو یارک کی ایلی للی کمپنی کی تیار کردہ وزن کم کرنے کی نئی گولی ’اورفوگلیپرون‘ نے ابتدائی طبی آزمائش میں حوصلہ افزا نتائج دیے ہیں۔ 72 ہفتوں کے مطالعے میں زیادہ سے زیادہ خوراک لینے والے شرکا نے اوسطاً 27.3 پاؤنڈ یعنی 12.4 فیصد جسمانی وزن کم کیا۔
کمپنی کے مطابق رواں سال کے آخر تک امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) سے اس دوا کی منظوری کے لیے درخواست دی جائے گی۔ اگر منظوری مل گئی تو یہ گولی موٹاپے اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج میں استعمال ہونے والے انجیکشنز جیسے ویگووی، اوزیمپک، زیپ باؤنڈ اور مونجارو کا آسان متبادل ثابت ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: درمیانی عمر میں وزن میں کمی انسانی زندگی میں برسوں کا اضافہ کرسکتی ہے، تحقیق
ایلی للی کے کارڈیو میٹابولک ہیلتھ کے صدر کینیٹھ کَسٹر نے کہا کہ گولیاں بنانا نسبتاً آسان ہے اور انہیں بڑے پیمانے پر تیار کیا جاسکتا ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جہاں دواؤں کے انجیکشن کے لیے درکار کولڈ اسٹوریج کی سہولت موجود نہیں۔
یہ دوا جی ایل پی-1 کلاس کی ادویات میں شامل ہے جو پیٹ بھرنے کا احساس بڑھا کر اور ہاضمہ سست کر کے وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ مطالعے میں 3 ہزار 127 بالغ افراد شامل تھے جنہیں مختلف خوراکوں میں اورفوگلیپرون یا پلیسبو دی گئی۔ وزن میں کمی کے ساتھ ساتھ مریضوں میں کولیسٹرول، ٹرائی گلیسرائیڈز اور بلڈ پریشر میں بھی بہتری دیکھی گئی۔
مضر اثرات انجیکشن والی دواؤں سے ملتے جلتے تھے جن میں قے، اسہال، قبض اور بدہضمی شامل ہیں، ایلی للی اس دوا کو ذیابیطس کے علاج کے لیے 2026 میں مارکیٹ کرنے کی بھی منصوبہ بندی کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گرمی کو شکست دینے والا اور وزن میں کمی لانے والا گیم چینجر مشروب
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس گولی کا اثر کچھ انجیکشنز جتنا طاقتور نہیں ہو سکتا، لیکن کم قیمت اور آسان دستیابی کی وجہ سے یہ دنیا بھر میں کروڑوں افراد کے لیے مؤثر حل بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت تقریباً 80 لاکھ امریکی موٹاپے کی ادویات استعمال کر رہے ہیں، حالانکہ اندازاً 17 کروڑ افراد اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، لیکن مہنگے اور پیچیدہ انجیکشنز اس میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ نئی گولی اس خلا کو پورا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسان اورفوگلیپرون ایلی للی کمپنی تحقیق ماہرین نیو یارک وزن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ماہرین نیو یارک کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔