—فائل فوٹو

قومی ایئر لائن کی پیرس سے لاہور کی پرواز پی کے 734 دو روز بعد بھی اڑان نہ بھر سکی۔

دوسری طرف غیر ملکی ایئر لائن کی دبئی سے کراچی کی پرواز میں 6 گھنٹے کی تاخیر ہوئی، پرواز صبح 10 بج کر 45 منٹ پر کراچی پہنچی تھی۔

دو دن سے اڑان نہ بھرنے والی قومی ایئر لائن کی پیرس سے لاہور کی پرواز کے مسافر شدید پریشان ہیں۔

مسافروں کا کہنا ہے کہ پرواز 8 اگست کی شام ساڑھے 5 بجے پیرس سے لاہور کے لیے روانہ ہونا تھی۔

انہوں نے کہا ہے کہ خواتین، بچوں سمیت مریض پیرس ایئر پورٹ پر پریشان ہیں، کچھ نہیں بتایا جا رہا ہے کہ پرواز کب روانہ ہو سکے گی۔

ترجمان قومی ایئر لائن کے مطابق پیرس پہنچنے کے بعد بوئنگ 777 طیارہ کے انجن میں خرابی سے شیڈول متاثر ہے، طیارے کو پیرس سے اسلام آباد پہنچنا تھا، وہی طیارہ واپسی کی پرواز پر جانا تھا۔

ترجمان کے مطابق ایک بوئنگ طیارے کی فنی خرابی کی وجہ سے پورا شیڈول متاثر ہے، جہاز کی فنی خرابی دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کوشش ہے کہ جلد از جلد فلائٹ بحالی کے بعد روانہ ہو سکے۔

قومی ایئر لائن کے حکام کے مطابق انجینئرنگ ٹیم طیارے کی خرابی کو دور کرنے کے لیے کام کر رہی ہے، پیرس میں تمام مسافروں کو ہوٹل منتقل کر دیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق پیرس میں فنی خرابی کا شکار طیارے کے لیے ضروری پرزے پیرس بھیجے جا رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: قومی ایئر لائن پیرس سے لاہور کی پرواز لائن کی

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں