’فری فلسطین‘ آئرش اداکارہ ڈینیس گو نے غزہ کے لیے آواز بلند کرنے کی اپیل کردی
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
مشہور اسٹار وارز سیریز ’اینڈور‘ میں اپنے کردار سے شہرت پانے والی آئرش اداکارہ ڈینیس گو نے لندن میں ڈاؤننگ اسٹریٹ پر ہونے والے ’مارچ فار غزہ‘ میں شرکت کے بعد ساتھی فنکاروں اور دیگر عوامی شخصیات سے فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنے کی اپیل کی ہے۔
انسٹاگرام پر اتوار کو شیئر کیے گئے پیغام میں گو نے بتایا کہ انہیں فلسطین سالیڈیریٹی کمپین کی جانب سے خطاب کی دعوت ملی، جہاں انہوں نے فلسطینی شاعر و کارکن نور عبد اللطیف کی نظم If I Must Starve بھی پیش کی۔
ڈینیس گو نے لکھا، ’میری وہاں موجودگی کا مقصد صرف یہ تھا کہ بااثر شخصیات کو ترغیب دی جائے کہ وہ بولیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ ڈر موجود ہے، لیکن یہ ہماری تاریخ کا سب سے تاریک لمحہ ہے۔‘
مزید پڑھیں: ’فلسطینی پیلے‘ امید زندہ ہے
ان کا کہنا تھا کہ مشہور شخصیات کو اکثر ہیلتھ کیئر ورکرز، صحافیوں اور خود فلسطینیوں سے زیادہ توجہ ملتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ معروف آوازیں فلسطینی بیانیے کو مرکزی حیثیت دیں اور اسے مزید پھیلائیں۔
View this post on Instagram
A post shared by Denise Gough (@denisegough1)
گو نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ تصدیق شدہ فلسطینی خاندانوں کی براہِ راست مدد کریں، مارچ میں شامل ہوں، نظر آئیں، بائیکاٹ کریں، تعلیم حاصل کریں، اور کہا کہ جتنے زیادہ لوگ ایسا کریں گے، ہمیں اتنا ہی کم خوف محسوس ہوگا۔ اب عمل کرنے کا وقت ہے۔
انہوں نے مظاہرین کے ساتھ کھڑے ہونے کو تاریخ کے درست رخ پر ہونا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اچھا محسوس ہوتا ہے، شور مچانا بہتر ہے۔
ڈینیس گو نے نور عبد اللطیف کا شکریہ ادا کیا کہ انہیں اپنے الفاظ بولنے کا موقع دیا، اور دنیا بھر میں موجود ان لاکھوں لوگوں کو سراہا جو انہیں توانائی دیتے ہیں اور ایک ایسی کمیونٹی بناتے ہیں جو سزا دینے کے بجائے سہارا دیتی ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام کا اختتام ان الفاظ پر کیا: ’فری فلسطین‘۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’اینڈور‘ ’فری فلسطین‘ آئرش اداکارہ اسٹار وارز سیریز ’اینڈور‘ ڈینیس گو فلسطین نور عبد اللطیف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اینڈور فری فلسطین آئرش اداکارہ ڈینیس گو فلسطین نور عبد اللطیف ڈینیس گو نے
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔
اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔
ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔
وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔
We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.
Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔