Daily Sub News:
2026-06-03@04:05:35 GMT

سردار ایاز صادق، جامعہ نعیمیہ اور حلقہ کی تبدیلی

اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT

سردار ایاز صادق، جامعہ نعیمیہ اور حلقہ کی تبدیلی

سردار ایاز صادق، جامعہ نعیمیہ اور حلقہ کی تبدیلی WhatsAppFacebookTwitter 0 11 August, 2025 سب نیوز

تحریر: محمد محسن اقبال

سردار ایاز صادق اُن چند منفرد اسپیکرز میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے بحثیت سپیکر ایسی روایات قائم کیں جو اس سے قبل پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ان کی نمایاں کوششوں میں سے ایک غیر معمولی اقدام عام شہریوں، بالخصوص طلبہ، کے لیے پارلیمنٹ کے دروازے کھول دینا تھا تاکہ وہ قانون سازی کے عمل اور عوامی نمائندوں کے طریقۂ کار کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔ یہ محض رسمی یا نمائشی قدم نہ تھا بلکہ عوام اور پارلیمان کے درمیان فاصلے کو کم کرنے کی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کوشش تھی۔ ان کی قیادت میں طلبہ کے لیے انٹرن شپ پروگرام شروع کیے گئے، جن کے ذریعے نوجوانوں کو پارلیمانی امور کا عملی تجربہ ملا۔ یہ منصوبہ اب ایک منظم روایت کی شکل اختیار کر چکا ہے، جو سردار ایاز صادق کی گزشتہ اسپیکر شپ سے کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور جمہوری عمل سے واقف نوجوانوں کی ایک نئی کھیپ تیار کر رہا ہے۔

گزشتہ جمعرات کے اسمبلی اجلاس کے آغاز پر اسپیکر سردار ایاز صادق نے لاہور کے گڑھی شاہو میں واقع جامعہ نعیمیہ کے طلبہ کو، جو وزیٹرز گیلری میں موجود تھے، خوش دلی سے خوش آمدید کہا۔اس جامعہ سے جڑی اپنی یادوں کو تازہ کرتےہوئے انہوں نے کہا: ’’یہ جامعہ کبھی میرے حلقے کا حصہ ہوا کرتی تھی۔ اب نہیں ہے، مگر یہ آج بھی میرے دل کے قریب ہے۔”‘‘

یہ جملہ سن کر میں بھی ماضی میں لوٹ گیا۔ لاہور کا باسی اور اسپیکر کے سابق حلقے کا رہائشی ہونے کے ناطے مجھے اپنے صحافت کے دن یاد آئے جب میں مذہبی امور کا بیٹ رپورٹر ہوتے ہوئے جامعہ نعیمیہ کا اکثر دورہ کرتا تھا۔ ایک دہائی سے زائد عرصے تک میرا اس کے علما اور منتظمین سے قریبی تعلق رہا۔ میں اکثر مفتی محمد حسین نعیمی سے شریعت اور فقہ کے معاملات میں رہنمائی لیتا، مگر ان کے صاحبزادے ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمی سے میرا تعلق نہایت مضبوط اور دلی نوعیت کا تھا۔

ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمی ایک جری شخصیت کے مالک تھے—ایمان کے معاملے میں غیر متزلزل، اصولوں میں اٹل اور اظہار میں بے باک۔ ان کی شخصیت میں علم و جرات کا حسین امتزاج تھا۔ مجھے یاد ہے جب انہوں نے جامعہ میں کمپیوٹر کلاسز اور جدید علوم کا آغاز کیا، تو یہ فیصلہ بعض روایتی حلقوں کے لیے غیر معمولی تھا۔ انہوں نے خود مجھے اس پروگرام کا مشاہدہ کرنے کی دعوت دی اور بعد میں اپنے گھر پر دوپہر کے کھانے پر مدعو کیا، جہاں ان کے صاحبزادے راغب نعیمی، جو اس وقت نوعمر تھے، بھی موجود تھا۔ ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمی کی دور اندیش سوچ سے متاثر ہو کر میں نے ایک رپورٹ قلم بند کی جو روزنامہ پاکستان میں جناب مجیب الرحمن شامی کی ادارت میں شائع ہوئی۔

یہ دور پاکستان کے لیے پرآشوب دور کہلاتا تھا چونکہ خودکش حملوں نے ملک کے امن کو تہ و بالا کر رکھا تھا۔ ایسے میں ڈاکٹر سرفراز نعیمی نے ایک جرات مندانہ فتویٰ جاری کیا جس میں خودکش حملوں کو اسلامی تعلیمات سے متصادم اور دہشت گردی قرار دیا۔ ان کا یہ بے خوف مؤقف ان کی جان لے گیا—12 جون 2009 کو وہ اپنے دفتر میں شہید کر دیے گئے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آج ان کے صاحبزادے ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی اس مشن کو بطور چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل آگے بڑھا رہے ہیں، ایمان اور جدید تقاضوں کے درمیان ہم آہنگی کی روایت کو قائم رکھتے ہوئے۔

اس موقع پر اسپیکر کا اپنے بدلے ہوئے حلقے کا ذکر کرنا ان کی سیاسی نظم و ضبط اور جماعتی فیصلوں سے وفاداری کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ انہوں نے اپنے پرانے حلقے سے کئی انتخابات جیتے اور وہاں سڑکوں کی تعمیر، تعلیمی اداروں کا قیام، سوئی گیس اور صاف پانی کی اسکیموں سمیت بڑے منصوبے مکمل کیے، لیکن انہوں نے بغیر کسی شکوے کے ایک بالکل نئے حلقے سے الیکشن لڑنے کا چیلنج قبول کیا۔

پاکستان کی انتخابی سیاست میں جہاں پارٹی پلیٹ فارم اہمیت رکھتا ہے، وہیں امیدوار کی ذاتی ساکھ بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ مختلف معتبر سرویز کے مطابق شہری حلقوں میں 30 فیصد سے زائد ووٹرز عموماً امیدوار کے ذاتی ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہیں نہ کہ صرف پارٹی وابستگی کو۔ کسی سیاسی رہنما کی خدمت کا ریکارڈ، عوام تک رسائی اور دیانت داری عوامی اعتماد حاصل کرنے کے بنیادی عوامل ہیں۔

سردار ایاز صادق کا سیاسی سفر سیاست میں کامیابی کے لوازم کو واضح کرتا ہے: پارٹی سے وفاداری، ذاتی ساکھ، خدمات کا نمایاں ریکارڈ اور بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت۔ ان کی مسلسل انتخابی کامیابیاں حتی کہ حلقہ بندی کی مشکلات کے بعد بھی—یہ ثابت کرتی ہیں کہ عوام سے قریبی تعلق سیاست کا اصل سرمایہ ہے۔ پاکستان جیسے متحرک مگر پیچیدہ جمہوری نظام میں سیاست کا فن صرف پارلیمان میں تقاریر کرنے کا نام نہیں بلکہ گلی محلوں میں موجودگی، بحران کے وقت بروقت ردعمل اور وعدوں کی سچائی ہے۔

کامیاب سیاستدان یہ بھی جانتے ہیں کہ تسلسل کی کیا اہمیت ہے۔ وہ وقتی فائدے کے لیے موقع پرستی پر مبنی پارٹی تبدیلیوں سے گریز کرتے ہیں، جو عوامی اعتماد کو مجروح کرتی ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ طویل مدت میں سیاسی چالاکیوں کے بجائے عملی کارکردگی ہی عوام کے دل میں جگہ بناتی ہے۔ جیسے مرحوم عبدالستار ایدھی—اگرچہ سیاستدان نہ تھے—نے خدمتِ انسانیت کے ذریعے ایک دائمی ورثہ تخلیق کیا، اسی اصول کا اطلاق سیاسی زندگی پر بھی ہوتا ہے۔

یہ تسلیم کرنا بھی ضروری ہے کہ پاکستان میں سیاسی بقا کے لیے حکمت، صبر اور تدبیر لازم ہیں۔ انتخابی شکست، حلقہ تبدیلی اور جماعتی سیاست میں اتار چڑھاؤ ناگزیر ہیں۔ جو لوگ ان حالات کا سامنا وقار اور ثابت قدمی سے کرتے ہیں، وہی دیرپا رہتے ہیں۔ سردار ایاز صادق کا بغیر اعتراض نئے حلقے کو قبول کرنا اسی پختگی کی علامت ہے۔ انہوں نے ذاتی رابطے، ترقیاتی منصوبوں اور بے داغ عوامی شبیہہ کے امتزاج سے نئی عوامی حمایت حاصل کی، جس سے یہ ثابت ہوا کہ اعتماد ایک بار جیت لیا جائے تو حدود و قیود سے ماورا ہو جاتا ہے۔

بلا شبہ، سیاست کردار کا بھی امتحان ہے اور طاقت کے حصول کا مقابلہ بھی ۔ کامیابی کا اصل معیار صرف انتخاب جیتنا نہیں بلکہ حامیوں اور مخالفین دونوں کا احترام برقرار رکھنا ہے۔ سردار ایاز صادق کا سیاسی سفر یہ سبق دیتا ہے کہ جمہوریت کے ایوانوں میں وفاداری، خلوص اور خدمت کا جذبہ وہ بنیادیں ہیں جن پر پائیدار سیاسی وراثت تعمیر ہوتی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایشیا کے امیر ترین آدمی مکیش امبانی کو اپنی کمپنی سے کتنی تنخواہ ملتی ہے؟ واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج آزادی کا مطلب کیا؟ — تجدیدِ عہد کا دن اوورسیز پاکستانی: قوم کے گمنام ہیرو اسلام میں عورت کا مقام- غلط فہمیوں کا ازالہ حقائق کی روشنی میں حرام جانوروں اور مردار مرغیوں کا گوشت بیچنے اور کھانے والے مسلمان “کلاؤڈ برسٹ کوئی آسمانی آفت یا ماحولیاتی انتباہ” TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: سردار ایاز صادق جامعہ نعیمیہ

پڑھیں:

جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔

بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات

منگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔

میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائی

سابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔

امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواست

ممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘  نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔

ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مجھے سب کچھ معلوم ہے

اپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔

نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔

مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ