کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن )کراچی کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی کی عدالت نے عامر لیاقت حسین کی مبینہ ویڈیو وائرل کرنے کے مقدمے میں یوٹیوبر یاسر شامی کی بریت کی درخواست مسترد کرنے کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے بری کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی کراچی کی عدالت میں یوٹیوبر یاسر شامی کی بریت کی درخواست مسترد کرنے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ یاسر شامی کے خلاف شواہد موجود نہیں جبکہ  وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی رپورٹ میں بھی یاسر شامی کے خلاف شواہد نہیں تھے۔

5اگست احتجاج؛ پی ٹی آئی کارکنان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم

وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایف آئی اے نے مقدمے کے ضمنی چالان میں یاسر شامی کے خلاف شواہد ناکافی قرار دیتے ہوئے کیس سے نام نکالنے کی رپورٹ جمع کرادی تھی۔جوڈیشل مجسٹریٹ نے ایف آئی اے کی رپورٹ اور بریت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔جوڈیشل مجسٹریٹ کے فیصلے کے خلاف سیشن عدالت سے رجوع کیا گیا تھا۔عدالت نے عامر لیاقت حسین کی مبینہ ویڈیو وائرل کرنے کے مقدمے میں یوٹیوبر یاسر شامی کی بریت کی درخواست مسترد کرنے کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے بری کر دیا۔

عامر لیاقت حسین کی مبینہ ویڈیو وائرل کرنے کی شکایت عامر لیاقت کی بیٹی نے درج کرائی تھی۔

بارسلونا میں چوری ہونیوالی گھڑی کتنی پرانی اور اس کی مالیت کتنی تھی،عبدالقادرگیلانی نے صحافیوں سے گفتگو میں بتا دیا

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: کی مبینہ ویڈیو وائرل کرنے بریت کی درخواست مسترد کر عامر لیاقت یاسر شامی کرنے کے کے خلاف

پڑھیں:

سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟

ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔

عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

متعلقہ مضامین

  • متنازع اے این ایف بھرتی اشتہار کی معطلی کی درخواست پر عدالت کا تحریری حکم نامہ جاری
  • ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
  • وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی