کیئر اسٹارمر اور مارک کارنی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، یوکرین جنگ بندی پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
برطانوی وزیراعظم اور کینیڈین وزیراعظم کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو میں دونوں راہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ امن مسلط نہیں بلکہ یوکرین کی مرضی اور شرکت سے قائم ہونا چاہیے۔ رابطے میں آئندہ سفارتی تعاون بڑھانے اور انسانی امداد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ لندن، برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں یوکرین جنگ کے تناظر میں عالمی امن و استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ برطانوی حکومت کے مطابق دونوں راہنماؤں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے جاری امن کوششوں کو سراہا۔
مذاکرات کے دوران یوکرین کی حمایت، جنگی تشدد کی روک تھام اور انسانی جانوں کے تحفظ پر زور دیا گیا، برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ یوکرین کا مستقبل آزادی، خودمختاری اور خودارادیت کے اصولوں پر مبنی ہونا چاہیے۔ دونوں راہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ امن مسلط نہیں بلکہ یوکرین کی مرضی اور شرکت سے قائم ہونا چاہیے۔ رابطے میں آئندہ سفارتی تعاون بڑھانے اور انسانی امداد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔