گوجرانوالہ (نمائندہ خصوصی) این اے 66 وزیر آباد کے ضمنی الیکشن میں سب سے بڑا اپ سیٹ ہوگیا۔ مسلم لیگ نون کی قیادت نے اپنا امیدوار تبدیل کرتے ہوئے اس حلقے سے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ کے بھائی بلال فاروق تارڑ کو اپنا امیدوار نامزد کر دیا ہے۔ وزیر آباد اور گکھڑ میں تارڑ برادران اور ان کے ساتھیوں کے ڈیروں پر جشن کا سماں، ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے گئے۔ تفصیلات کے مطابق این اے 66 وزیرآباد میں پی ٹی آئی کے محمد احمد چٹھہ کو عدالت کی طرف سے سزا ملنے کے بعد الیکشن کمشن نے یہ حلقہ خالی قرار دے دیا تھا۔ گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف کی زیرِ صدارت مری میں خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیرِاعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار، وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف اور دیگر رہنما بھی شریک تھے۔ میاں نواز شریف نے این اے 66 وزیر آباد سے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ کے بھائی بلال فاروق تارڑ کو اپنا امیدوار نامزد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ 2018ء کے الیکشن میں مسلم لیگ نون نے ان کے بھائی اور سابق ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر نثار چیمہ کو ٹکٹ جاری کر دیا اور وہ کامیاب ہو گئے۔ تاہم 2024ء کے الیکشن میں ڈاکٹر نثار چیمہ کامیاب نہ ہو سکے اور 60 ہزار ووٹوں کی لیڈ سے کامیابی پی ٹی آئی کے محمد احمد چٹھہ کے حصے میں آئی، محمد احمد چٹھہ نے ایک لاکھ 60 ہزار 676 ووٹ اور ڈاکٹر نثار چیمہ نے ایک لاکھ 633 ووٹ حاصل کئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن ہارنے کے بعد ڈاکٹر نثار چیمہ نے پارٹی قیادت کے خلاف بیان بازی کی تھی جوکہ ریکارڈ پر ہے اور یہی بات انہیں لے ڈوبی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ڈاکٹر نثار چیمہ

پڑھیں:

کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار  تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا  تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک