حلقہ این اے 66 ‘ بڑا اپ سیٹ‘ نثار چیمہ کی جگہ بلال فاروق تارڑ نامزد
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
گوجرانوالہ (نمائندہ خصوصی) این اے 66 وزیر آباد کے ضمنی الیکشن میں سب سے بڑا اپ سیٹ ہوگیا۔ مسلم لیگ نون کی قیادت نے اپنا امیدوار تبدیل کرتے ہوئے اس حلقے سے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ کے بھائی بلال فاروق تارڑ کو اپنا امیدوار نامزد کر دیا ہے۔ وزیر آباد اور گکھڑ میں تارڑ برادران اور ان کے ساتھیوں کے ڈیروں پر جشن کا سماں، ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے گئے۔ تفصیلات کے مطابق این اے 66 وزیرآباد میں پی ٹی آئی کے محمد احمد چٹھہ کو عدالت کی طرف سے سزا ملنے کے بعد الیکشن کمشن نے یہ حلقہ خالی قرار دے دیا تھا۔ گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف کی زیرِ صدارت مری میں خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیرِاعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار، وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف اور دیگر رہنما بھی شریک تھے۔ میاں نواز شریف نے این اے 66 وزیر آباد سے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ کے بھائی بلال فاروق تارڑ کو اپنا امیدوار نامزد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ 2018ء کے الیکشن میں مسلم لیگ نون نے ان کے بھائی اور سابق ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر نثار چیمہ کو ٹکٹ جاری کر دیا اور وہ کامیاب ہو گئے۔ تاہم 2024ء کے الیکشن میں ڈاکٹر نثار چیمہ کامیاب نہ ہو سکے اور 60 ہزار ووٹوں کی لیڈ سے کامیابی پی ٹی آئی کے محمد احمد چٹھہ کے حصے میں آئی، محمد احمد چٹھہ نے ایک لاکھ 60 ہزار 676 ووٹ اور ڈاکٹر نثار چیمہ نے ایک لاکھ 633 ووٹ حاصل کئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن ہارنے کے بعد ڈاکٹر نثار چیمہ نے پارٹی قیادت کے خلاف بیان بازی کی تھی جوکہ ریکارڈ پر ہے اور یہی بات انہیں لے ڈوبی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ڈاکٹر نثار چیمہ
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔