قومی اسمبلی اور سینیٹ سے ڈی نوٹیفائی کرنیکا معاملہ؛ عمر ایوب، شبلی فراز کا پشاور ہائیکورٹ سے رجوع
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
پشاور:
پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب اور شبلی فراز نے ڈی نوٹیفائی کرنے کے اقدام کے خلاف پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔
عمر ایوب اور شبلی فراز نے بشیر وزیر ایڈووکیٹ کی وساطت سے درخواستیں دائر کر دیں جس میں الیکشن کمیشن، اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ 5 اگست کو الیکشن کمیشن نے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب اور سینیٹر شبلی فراز کو نااہلی کیا، الیکشن کمیشن فیصلے کو عمر ایوب اور شبلی فراز نے پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا جس پر پشاور ہائیکورٹ نے 6 اگست کو الیکشن کمیشن کو دونوں درخواست گزاروں کے خلاف مزید کارروائی سے روک دیا۔
پشاور ہائیکورٹ نے احکامات جاری کیے کہ الیکشن کمیشن 5 اگست نوٹیفکیشن پر مزید کارروائی نہ کریں، عدالتی احکامات کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے درخواست گزار عمر ایوب اور چیئرمین سینیٹ نے شبلی فراز کو ڈی نوٹیفائی کرکے ان کی سیٹ خالی قرار دے دی۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود اسپیکر قومی اسمبلی اور سینیٹ چیئرمین کا اقدام توہین عدالت ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پشاور ہائیکورٹ الیکشن کمیشن عمر ایوب اور قومی اسمبلی شبلی فراز
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔