27ویں ترمیم، پی ٹی آئی سمیت پارلیمنٹ سے بھاگنے والی جماعتیں سیاست سے بھی دور ہوں گی، وزیر مملکت
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سمیت پارلیمنٹ سے بھاگنے والی سیاسی جماعتیں سیاست سے بھی دور ہوتی جائیں گی۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ فیصلے اور قانون سازی کا فورم ہے، اسے دھونس اور دھمکی سے نہیں چلایا جا سکتا۔
انہوں نے بتایا کہ صدر کی ایمونٹی سمیت کئی امور پر بات چیت جاری ہے، زیادہ تر نکات پر اتفاقِ رائے ہوچکا ہے، کوشش ہے کہ باقی معاملات پر بھی اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ مختلف جماعتوں اور کمیٹیوں میں بات چیت جاری ہے اور تمام ترامیم پر اتفاقِ رائے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی کے پی میں سیاسی حیثیت موجود ہے لیکن ان کا طرزِ عمل انہیں سیاست سے باہر کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 80 نشستوں والی اتنی بڑی جماعت کے پاس سینٹ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تک نہیں ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ انہوں نے مزید کہا کہ جے یو آئی کو آن بورڈ لینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ محمود اچکزئی ہر اسمبلی کا حصہ ہو کر بھی اسے جعلی قرار دیتے ہیں، اگر اسمبلی جعلی ہے تو وہ اس کا حصہ کیوں ہیں؟
طلال چوہدری نے کہا کہ جب دلیل نہ ہو تو لوگ اسمبلی سے بھاگتے ہیں، اگر دلائل مضبوط ہوں تو قانون سازی کو روکا جا سکتا ہے، مگر احتجاج اور بائیکاٹ کی راہ درست نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ تمام ترامیم ایک رپورٹ کی صورت میں جلد سینٹ میں پیش کی جائیں گی، صدر کی ایمونٹی سے متعلق تفصیلات بھی سینٹ میں پیش ہوں گی۔ اس حوالے سے کسی وقت کی حد مقرر نہیں، تاہم کئی ہفتوں سے سیاسی جماعتوں میں تفصیلی مشاورت جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ ہمیشہ قومی اتفاقِ رائے سے باہر رہے ہیں، وہ آج بھی کسی نہ کسی بہانے اسمبلیوں سے راہِ فرار اختیار کرتے ہیں۔ طلال چوہدری نے مزید کہا کہ اگر دلیل مضبوط ہو تو ساتھ کھڑے ہوں، مگر یہ لوگ ہمیشہ دوڑنے کا بہانہ ڈھونڈتے ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل طلال چوہدری نے نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز