خیبر پختونخوا: جعلی کرنسی کی فیکٹری سے ایک کروڑ سے زائد جعلی نوٹ برآمد
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
پشاور پولیس نے ایک گھر میں قائم جعلی نوٹ چھاپنے کی فیکٹری سیل کر کے ایک کروڑ پندرہ لاکھ روپے سے زائد مالیت کی جعلی کرنسی برآمد کر لی، جو پورے ملک میں سپلائی کی جانی تھی۔
ترجمان پشاور پولیس کے مطابق، پولیس کو خفیہ اطلاع ملی کہ تھانہ آغا میر جانی شاہ کی حدود میں جعلی کرنسی تیار کی جا رہی ہے۔ اس اطلاع پر ایس پی سٹی کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی، جس میں ایک خاتون اہلکار بھی شامل تھی۔
یہ بھی پڑھیں:
پولیس نے لالی باغ کے علاقے میں واقع ایک گھر پر چھاپہ مارا تو معلوم ہوا کہ گھر کے ایک کمرے میں جعلی نوٹ تیار کرنے کی فیکٹری قائم ہے، پولیس کے مطابق، اس فیکٹری میں پاکستانی جعلی کرنسی چھاپی جا رہی تھی، کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں جعلی نوٹ، کرنسی تیار کرنے والی مشینری اور مختلف اوزار برآمد کر کے تحویل میں لے لیے گئے۔
ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزمان نے یہ گھر کرائے پر لے کر یہ دھندا شروع کیا تھا اور جعلی کرنسی پورے ملک میں سپلائی کی جا رہی تھی۔
ترجمان پولیس نے بتایا کہ کارروائی کے دوران ایک کروڑ پندرہ لاکھ روپے سے زائد مالیت کے جعلی نوٹ برآمد ہوئے، جو ایک اور 5 ہزار کے نوٹوں پر مشتمل تھے۔ تاہم، ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اور ان کی تلاش جاری ہے۔
پولیس کی ابتدائی تحقیقات سے یہ بھی پتا چلا کہ یہ سلسلہ کافی عرصے سے جاری تھا اور ملزمان اس سے پہلے بھی نامعلوم مالیت کی جعلی کرنسی مارکیٹ میں سپلائی کر چکے ہیں، جہاں ان کے کارندے لوگوں کو دھوکا دے کر نوٹ تبدیل کرتے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
خیبرپختونخوا فیکٹری کرنسی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خیبرپختونخوا فیکٹری جعلی کرنسی جعلی نوٹ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔