وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ 2025 میں پاکستان کے تمام بڑے اقتصادی اشاریے مثبت سمت میں رہے، جی ڈی پی گروتھ میں اضافہ اور مہنگائی میں نمایاں کمی ہوئی، جبکہ بیرونی اور مالیاتی شعبے بھی مستحکم ہوئے۔ اسلام آباد میں ماہانہ ڈویلپمنٹ پلان پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف جولائی میں برآمدات 17 فیصد بڑھیں، جو معیشت کی بحالی کی واضح علامت ہے۔

احسن اقبال نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ میں 2.

1 ارب ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا، جبکہ جولائی میں ترسیلات زر میں 7.4 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی طور پر 3.2 ارب ڈالر موصول ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پرائمری بیلنس سرپلس 24 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے اور یہ اعدادوشمار ثابت کرتے ہیں کہ حکومت نے معیشت کی بحالی کا بیڑہ کامیابی سے اٹھایا ہے۔

وزیر منصوبہ بندی کے مطابق بہتر مالی نظم کے باعث گزشتہ سال 1,068 ارب روپے ترقیاتی فنڈز پر خرچ کیے گئے اور ملکی تاریخ میں پہلی بار ترقیاتی اخراجات کی شرح 98 فیصد تک پہنچی۔ عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے بھی پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی تصدیق کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جولائی 2025 میں افراط زر کم ہوکر 4.1 فیصد رہ گئی، جو گزشتہ سال کے 11 فیصد سے نمایاں کمی ہے۔ سالانہ مہنگائی کی شرح بھی 38 فیصد سے کم ہو کر 4 فیصد پر آ گئی ہے اور یہ کمی کا رجحان مسلسل جاری ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج دنیا کی کامیاب ترین مارکیٹس میں شامل ہے اور سرمایہ کار پاکستان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستانی ڈرامے نیٹ فلکس اور ایمازون پر، احسن اقبال کے بیان پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟

احسن اقبال نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ ٹیرف میں نرمی کا معاہدہ تجارتی مواقع بڑھائے گا، اب یہ پاکستانی کاروباری برادری پر منحصر ہے کہ وہ امریکی مارکیٹ سے کتنا فائدہ اٹھاتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پہلی بار ملک بھر سے زراعت کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے اور زرعی شعبے کی ترقی کے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سی ڈی ڈبلیو پی نے 8 منصوبوں کی منظوری دی جبکہ 3 منصوبے ایکنک کو بھجوائے گئے ہیں، ان منصوبوں سے 2 ہزار روزگار پیدا ہوں گے۔ پاکستان نے اپنا سیٹلائٹ کامیابی سے خلا میں بھیجا ہے جس کے معیشت پر مثبت اثرات ہوں گے، جبکہ 2026 میں پاکستان کا پہلا خلا باز چین کے ساتھ سائنسی تجربات کرے گا۔

وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ پی ایس ڈی پی فنڈز کے اجرا کے لیے جامع لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے۔ وزارت خزانہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ پہلی سہ ماہی میں فنڈز کے اجرا میں 5 فیصد اضافہ اور آخری سہ ماہی میں 40 کے بجائے 30 فیصد فنڈز جاری کیے جائیں۔ وزارتوں کے پرنسپل اکاؤنٹس آفیسرز کو قومی نوعیت کے منصوبوں پر اخراجات کی ہدایت کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیرف لائنز اور ڈیوٹیز میں کمی سے خام مال کی درآمد آسان ہوگی اور خام مال کی دستیابی برآمدات میں مزید اضافہ کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

احسن اقبال اقتصادی اشاریے مثبت امریکہ پاکستان ٹیرف میں نرمی وزیر منصوبہ بندی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: احسن اقبال اقتصادی اشاریے مثبت امریکہ پاکستان ٹیرف میں نرمی انہوں نے کہا کہ احسن اقبال ہے اور

پڑھیں:

بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟

وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاریوں کے ساتھ ہی قابل تجدید توانائی کے شعبے، بالخصوص سولر انڈسٹری کی نظریں حکومت کے ممکنہ ٹیکس اقدامات پر مرکوز ہیں۔

ملک میں بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں اور توانائی کے بحران کے باعث سولر توانائی کی جانب رجحان تیزی سے بڑھا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سولر پینلز یا متعلقہ آلات پر نئے ٹیکس عائد کرتی ہے تو اس سے نہ صرف سولر سسٹمز کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ صنعت کی ترقی اور صارفین کی دلچسپی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت شمسی توانائی کے فروغ کے لیے پرعزم، عوام کو سولر سسٹمز پر ریلیف برقرار

بجٹ میں سولر پنیلز پر ٹیکسز میں اضافے کے حوالے سے مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں۔

وی نیوز نے سولر انڈسٹری کے ماہرین سے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ سولر پینلز پر ٹیکس کتنے فیصد تک بڑھایا جا سکتا ہے، اور اس سے سولر پینلز کی قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا؟

ٹیکس کی شرح بڑھی تو قیمتوں میں اضافہ ہو جائےگا، شرجیل احمد

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سولر مارکیٹ کے ماہر شرجیل احمد سلہری کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں مختلف خبریں گردش کررہی ہیں کہ آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کی جا سکتی ہے۔ یعنی 8 فیصد فیصد اضافہ متوقع ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو سولر پینلز اور سولر سسٹمز کی قیمتوں میں کم از کم 10 سے 12 فیصد تک اضافہ متوقع ہے، جس سے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑےگا اور قابل تجدید توانائی کے فروغ کی رفتار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

شرجیل احمد سلہری نے کہاکہ پاکستان کے برعکس دنیا کے بیشتر وہ ممالک جو موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہیں، وہاں گرین انرجی کی مصنوعات اور منصوبوں پر ٹیکس عائد نہیں کیا جاتا۔

ان کے مطابق ایسے ممالک سولر اور دیگر متبادل توانائی کے ذرائع کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹیکس چھوٹ اور مختلف مراعات فراہم کرتے ہیں تاکہ صاف اور سستی توانائی کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔

’سولر پلیٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے‘

انجینیئر محمد حمزہ رفیع کے مطابق آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو سولر پلیٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

محمد حمزہ رفیع کے مطابق اگر ایسا ہو جاتا ہے تو سولر پینلز کی قیمت فی واٹ 8 سے 15 روپے تک بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے سولر سسٹمز کی مجموعی لاگت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

انہوں نے مزید کہاکہ قیمتوں میں اضافے سے سولر توانائی کی جانب منتقل ہونے والے نئے صارفین کی حوصلہ شکنی ہوگی، کیونکہ ملک میں پہلے ہی سولر پینلز سے منسلک حکومتی پالیسیوں نے عوام کے لیے سولر پینلز کی تنصیب کو ایک مشکل فیصلہ بنا دیا ہے۔

’ٹیکس بڑھنے کی خبروں میں سولر انڈسٹری میں تشویش‘

پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینیئر وائس چیئرمین حسنات خان کے مطابق حکومت کی جانب سے سولر پینلز پر ٹیکس میں ممکنہ اضافے کی تجویز پر انڈسٹری میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے سولر پینلز پر موجودہ 10 فیصد ٹیکس کو بڑھا کر 18 فیصد کرنے کے دباؤ کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں، تاہم اس حوالے سے انڈسٹری کی کوشش ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کے اس شعبے پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔

حسنات خان کے مطابق اگر ٹیکس میں اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر سولر سسٹمز کی قیمتوں پر پڑے گا اور صارفین کے لیے صاف توانائی حاصل کرنا مزید مہنگا ہو جائے گا۔

مزید پڑھیں: سولر، ونڈ اور ہائیڈرو پاور کے ذریعے توانائی کے حصول پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں توانائی کا بحران اور بجلی کی بلند قیمتیں پہلے ہی بڑا مسئلہ ہیں، وہاں سولر انرجی کو مزید مہنگا کرنا توانائی کے فروغ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈسٹری حکومت سے مسلسل رابطے میں ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ سولر انرجی کو ریلیف دیا جائے ورنہ کم از کم ٹیکس کو نہ بڑھایا جائے تاکہ عوام سستی اور ماحول دوست توانائی سے فائدہ اٹھا سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews ٹیکس میں اضافہ سولر انڈسٹری وفاقی بجٹ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر