کاش پاکستان کے پاس فیلڈ مارشل جیسا کوئی جمہوری لیڈر بھی ہوتا: فیصل واؤڈا
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
—فائل فوٹو
سینیٹر فیصل واؤڈا نے کہا ہے کہ کاش پاکستان کے پاس فیلڈ مارشل سید عاصم منیر جیسا کوئی جمہوری لیڈر بھی ہوتا۔ نہ پہلے کوئی لیڈر تھا نہ آج کوئی ہے اور نہ ہی آگے کوئی نظر آ رہا ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارت کو جنگ میں شکست اور امریکی ٹیرف کے بعد کالعدم بی ایل اے پر امریکی پابندی فیلڈ مارشل کی ایک اور کامیابی ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ امریکا کو لے کر پاکستان کے مؤقف کی عالمی سطح پر پذیرائی اور بھارت کا دہشتگردانہ چہرا ایک بار پھر بے نقاب ہوا ہے۔
فیصل واؤڈا کا کہنا تھا کہ کالعدم بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشت گرد قرار دیے جانے کا مطلب بھارت کو دہشت گرد قرار دینا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فیلڈ مارشل نے اپنی قابلیت کو بین الاقوامی طور پر ثابت کر دیا ہے۔ اب دیکھیں اس کے بعد کیا کیا ہوتا ہے؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔