دنیا کے لیے یہ محض ایک پرندہ ہو سکتی ہے لیکن سونیا ہل کے لیے ’پرل‘ ایک محبوب ساتھی ہے۔ اب یہی پرل عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے کیونکہ اسے گنیز ورلڈ ریکارڈز نے دنیا کی زندہ سب سے زیادہ عمر والی مرغی قرار دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مختلف اداروں کے بعد اب پیش خدمت ہے جعلی پولیس تھانہ، کہاں سے آتے ہیں یہ لوگ؟

صرف 14 سال اور 69 دن کی عمر میں پرل نے یہ اعزاز حاصل کرلیا ہے۔ سونیا ہل نے پرل کو 13 مارچ 2011 کو اپنے ذاتی انکیوبیٹر میں انڈے سے نکالا تھا۔

اس نسل کی مرغیاں، جنہیں ایسٹر ایگر کہا جاتا ہے، عموماً 5 سے 8 سال جیتی ہیں لیکن پرل نے سب اندازے غلط ثابت کر دیے۔

اب عمر کے باعث پرل کی چال محدود ہو گئی ہے۔ وہ زیادہ تر گھر کے لانڈری روم میں آرام کرتی ہے لیکن جب ٹی وی کی آواز آتی ہے تو وہ لیونگ روم کا رخ کرتی ہے جیسے اپنی پسندیدہ فلم دیکھنے آ رہی ہو۔ سونیا کہتی ہیں کہ جب وہ ٹی وی کی آواز سنتی ہے تو فوراً متوجہ ہو جاتی ہے۔

مزید پڑھیے: موسیقی کی دلدادہ ہتھنی نے اپنے ردعمل سے سب کو حیران کردیا

پرل گھر کے دیگر پالتو جانوروں جن میں ایک عمر رسیدہ بلی اور اس کے نو عمر بچے  کے ساتھ بہت گھل مل چکی ہے۔ اپنی مرغی کی جانب پیار سے دیکھتے ہوئے خوشی سے بولیں ’بلی کا بچہ بسا اوقات پرل کے ساتھ آ کر بیٹھ جاتا ہے لیکن وہ اسے کچھ نہیں کہتی‘۔

اگرچہ پرل کی انڈے دینے کی رفتار کم ہو چکی ہے لیکن جیسے ہی اسے گنیز کی جانب سے ریکارڈ ہولڈر تسلیم کیا گیا اس نے خوشی میں ایک انڈا دے دیا۔

یاد رہے کہ پرل سے پہلے یہ اعزاز ریاست الی نوائے کی مرغی ’پِینَٹ‘ کے پاس تھا جو 21 سال 238 دن کی عمر میں دسمبر 2023 میں دار فانی سے کوچ کرگئی تھی۔

مزید پڑھیں: اولڈ ایج ہوم کی تنہایوں میں مِسٹری مووی کا جنم، معمر افراد نے کمال کردکھایا

پرل کی کہانی نہ صرف ایک مرغی کی عمر کا حیران کن ریکارڈ ہے بلکہ یہ اس محبت اور توجہ کی بھی تصویر ہے جو انسان اور اس کے پالتو ساتھی کے درمیان پروان چڑھتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گنیز بک آف ریکارڈز معمر ترین مرغی معمر مرغی پرل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: گنیز بک آف ریکارڈز ہے لیکن

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین