ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم نے 34 سال بعد پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز جیت کر ایک تاریخی کارنامہ انجام دے دیا۔ منگل کو ٹرینیڈاڈ میں کھیلے گئے فیصلہ کن میچ میں میزبان ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 202 رنز سے کامیابی حاصل کی اور 3 میچوں کی سیریز 1-2 سے اپنے نام کر لی۔

کپتان شائی ہوپ نے قیادت کا حق ادا کرتے ہوئے ناقابل شکست 120 رنز بنائے اور ٹیم کو 6 وکٹوں کے نقصان پر 294 رنز کے مستحکم مجموعے تک پہنچایا۔ جواب میں فاسٹ بولر جےڈن سیلز نے تباہ کن باؤلنگ کرتے ہوئے 6 وکٹیں حاصل کیں اور پاکستانی ٹیم کو صرف 92 رنز پر ڈھیر کر دیا۔

یہ 1991 کے بعد پہلی بار ہے کہ ویسٹ انڈیز نے پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز جیتی ہے۔ یہ فتح ویسٹ انڈین ٹیم کے حوصلے بلند کرے گی، خاص طور پر اس وقت جب وہ 2027 کے آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ ویسٹ انڈیز 2023 کے ورلڈ کپ میں جگہ بنانے میں ناکام رہا تھا۔

میچ کے دوران ایک موقع پر ویسٹ انڈیز کی ٹیم مشکلات میں گھر گئی تھی جب 42 ویں اوور میں گُڈاکیش موتی 5 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ اس وقت اسکور 184تھا اور اس کے 6 کھلاڑی آؤٹ ہوچکے تھے۔ تاہم اس کے بعد شائی ہوپ اور جسٹن گریوز (ناٹ آؤٹ 43) نے شاندار شراکت قائم کی اور آخری اوورز میں دھواں دھار بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کو ایک بڑے ہدف تک پہنچا دیا۔

یہ شائی ہوپ کی ون ڈے کرکٹ میں 18ویں سنچری تھی، جس کے ساتھ وہ ویسٹ انڈیز کی جانب سے سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے بلے بازوں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر آ گئے ہیں۔ انہوں نے سابق کپتان ڈیسمنڈ ہینز کو پیچھے چھوڑ دیا، جنہوں نے 17 سنچریاں جمع کر رکھی تھیں۔ اب ان کے سامنے کرس گیل 25 اور برائن لارا 19 سنچریوں کے ساتھ بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر کھڑے ہیں۔

یہ فتح ویسٹ انڈیز کی ون ڈے کرکٹ میں رنز کے لحاظ سے چوتھی سب سے بڑی کامیابی بھی تھی۔ شائی ہوپ نے میچ کے بعد کہا:

’یہ ایک بھرپور میچ تھا اور میں انتہائی فخر محسوس کر رہا ہوں کہ ہم نے اتنے عرصے بعد پاکستان کو شکست دی۔ ہم اکثر منفی پہلوؤں پر توجہ دیتے ہیں، لیکن آج ہمارے پاس بہت سی مثبت چیزیں ہیں جن پر خوشی منائی جا سکتی ہے۔‘

جےڈن سیلز کو سیریز میں شاندار کارکردگی (کل 10 وکٹیں) پر پلیئر آف دی سیریز قرار دیا گیا۔ شائی ہوپ نے نوجوان بولر کی تعریف کرتے ہوئے کہا:

’سیلز ایک معیاری بولر ہے… وہ ہر کام کے لیے تیار رہتا ہے اور ہر فارمیٹ میں بہترین کارکردگی دیتا ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز کرکٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز کرکٹ ویسٹ انڈیز کی کرتے ہوئے شائی ہوپ

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا