چیف جسٹس کی پنشن و مراعات کی تفصیلات سینیٹ میں پیش
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
چیف جسٹس کی پنشن و مراعات کی تفصیلات سینیٹ میں پیش WhatsAppFacebookTwitter 0 15 August, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) وزارت قانون نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ملنے والی پنشن و مراعات کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کردیں۔
وزارت قانون نے سینیٹ میں اپنے تحریری جواب میں سال 2010 سے 2024 تک پنشن میں کیے گئے اضافے کی تفصیلات پیش کردیں۔
وزارت قانون کے مطابق 2010 میں چیف جسٹس کو 5 لاکھ 60 ہزار پنشن ملتی تھی، 2011 میں چیف جسٹس کی پنشن 6 لاکھ 44 ہزار ہوگئی، 2012 میں 7 لاکھ 73 ہزار، 2013 میں 8 لاکھ 50 ہزار اور 2014 میں 9 لاکھ 35 ہزار ہوگئی۔
2015 میں چیف جسٹس کی پنشن 10 لاکھ 5 ہزار، 2016 میں 11 لاکھ 5 ہزار، 2017 میں 12 لاکھ 17 ہزار، 2018 میں 13 لاکھ 38 ہزار، 2021 میں 14 لاکھ 52 ہزار، 2023 میں 16 لاکھ 57 ہزار اور 2024 میں چیف جسٹس کی پنشن 23 لاکھ 90 ہزار ہوگئی۔
چیف جسٹس کی بیوہ کو ملنے والی پنشن کی تفصیلات بھی ایوان میں پیش کی گئیں جس کے مطابق جج کی بیوہ کو ڈرائیور اور اردلی کے ساتھ ساتھ ماہانہ 3 ہزار لوکل ٹیلی فون کالز، 2 ہزار یونٹ بجلی، 300 لیٹر پیٹرول اور مفت پانی کی سہولت بھی حاصل ہے۔ جج کی بیوہ سے انکم ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔
دریں اثنا سینیٹ اجلاس میں پیٹرولیم ترمیمی بل 2025 بھی پیش کردیا گیا جسے بحث کے بعد قائمہ کمیٹی کو بھجوادیا گیا۔ بل وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے ایوان میں پیش کیا۔
سینیٹ میں ورچوئل ایسٹیس آرڈیننس 2025 بھی پیش کیا گیا جو متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا، آرڈیننس پیش کرنے پر مسلم لیگ ن کے سینیٹر افنان اللہ ناراض ہوکر ایوان سے چلے گئے جنہیں بعد میں حکومتی سینیٹرز منا کر واپس لے آئے۔
سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ یہ بل میرا ہے، اس پر سارا کام میں نے کیا ہے، یہ بل میں نے کئی ماہ لگا کر بنایا تھا، اس بل کو پہلے بلاک کردیا، اس بل کو کاپی کرکے اب حکومت لے آئی، یہ چیٹنگ میں آتا ہے، جس نے کام کیا ہے اس کو کریڈٹ ملنا چاہئے۔
وفاقی وزیرکامرس جام کمال خان نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان کو سب سے اچھا ٹیرف امریکہ سے ملا ہے، اس ٹیرف کے بدلے ہمارے اوپر امریکا کی طرف سے کوئی بائنڈنگ بھی نہیں ہے۔
جام کمال خان نے کہا کہ اسٹریٹجک ٹیرف پالیسی 2021 میں فریم ورک بنایا گیا، ہماری حکومت نے پہلی دفعہ ٹیرف کمیٹی کو آرگنائز کیا ہے، بہت سارے آئٹمز ایسے ہیں جو پاکستان میں بنتے ہی نہیں ان پر ٹیرف برقرار رکھا گیا، ہم نے ان تمام آئٹمز کو دیکھا بہت ساری اشیاء پر ٹیرف کو کم کیا گیا۔
ایوان بالا میں نبی کریم ﷺ کے 1500 ویں جشن ولادت پر قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کرلی گئی، قرارداد سینیٹر عرفان صدیقی نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ تمام وفاقی اور صوبائی حکومتیں شایان شان طریقے سے عید میلاد النبی ؐ منائیں گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسینیٹ میں یوم آزادی کی مناسبت سے قرارداد منظور، اکابرین کو خراج عقیدت سینیٹ میں یوم آزادی کی مناسبت سے قرارداد منظور، اکابرین کو خراج عقیدت پاکستان کے تمام حلقے سی پیک کے ’’اپ گریڈ ورژن‘‘کی تعمیر کی پرزور حمایت کرتے ہیں ، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کسی کو بلیک میل نہیں کرتے، جوہری صلاحیت دفاع کی ضمانت ہے،خواجہ آصف عمران خان کے ٹائیگرز نے رات جاگ کر معرکہ حق پر مہم چلائی لیکن انہیں ایوارڈ نہیں دیا گیا: فیصل جاوید وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف 5 روزہ سرکاری دورے پر جاپان روانہ پاکستان کے ارب پتی بزنس ٹائیکونز کی فہرست جاری، بیسٹ وے گروپ کے سر انور پرویز 3 ارب 62 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری کے...
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چیف جسٹس کی پنشن میں چیف جسٹس کی تفصیلات سینیٹ میں میں پیش پیش کی
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،