ٹیم کی ناقص کارکردگی، کرکٹرز کے بھاری معاوضے نظروں میں آنے لگے
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
کراچی:
ٹیم کی ناقص کارکردگی پر قومی کرکٹرز کے بھاری معاوضے نظروں میں آنے لگے، رواں برس ممکنہ طور پر آخری بار سینٹرل کنٹریکٹ میں آئی سی سی شیئر کا 3 فیصد دیا جائے گا۔
2 سال قبل کی انڈراسٹینڈنگ کے مطابق 2025-26 میں بھی ماہانہ تنخواہ اور میچ فیس سابقہ سیزن کی برقرار رہنا ہے، البتہ پی سی بی نے ریٹینر بجٹ 37 فیصد (319 ملین روپے) بڑھا کر تقریبا 1173.
تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کی حالیہ کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے، ٹیم نے تین میں سے صرف ایک ٹیسٹ جیتا،11 میں سے صرف 2 ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں فتح نصیب ہوئی،14 میں سے 7 ٹی 20 میں کامیابی ملی جبکہ اتنے ہی میچز میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
حال ہی میں نمبر 10 رینک بنگلہ دیش نے گرین شرٹس کو ٹی ٹوئنٹی سیریز میں 1-2 سے ہرایا، ویسٹ انڈیز نے دسویں رینک ٹیم کی حیثیت سے ون ڈے سیریز شروع کی اور 1-2 کی فتح سے نواں درجہ حاصل کر لیا۔
پاکستان ٹی ٹوئنٹی میں آٹھویں نمبر پر پہنچ چکا، ون ڈے اور ٹیسٹ کی رینکنگ 5 ہے، ٹیم اب تواتر سے نوآموز حریفوں سے بھی ہارنے لگی ہے جس کی وجہ سے شائقین سخت بددل ہیں، پی سی بی بھی کھلاڑیوں کی کارکردگی سے سخت ناخوش ہے۔
سابق چیئرمین مینجمنٹ کمیٹی پر دباؤ ڈال کر سینئر کرکٹرز نے تاریخ میں پہلی بار پی سی بی سے آئی سی سی کی آمدنی کا 3 فیصد حصہ لینے کا مطالبہ منوا لیا تھا، قانونی پیچیدگی کی وجہ سے موجودہ انتظامیہ نے یہ سلسلہ ختم تو نہیں کیا لیکن نئے معاہدوں میں ممکنہ طور پر آخری بار یہ شیئر شامل کیا جائے گا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ کرکٹرز کو کئی ماہ سے شرٹ پر اسپانسر لوگو کی رقم بھی نہیں دی گئی، سینٹرل کنٹریکٹ میں یہ درج ہے کہ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ملک کی نمائندگی کرنے والا ہر کھلاڑی ٹیم لوگو اسپانسر شپ سے بورڈ کو حاصل شدہ رقم کا کچھ حصہ وصول کرے گا اور ہر سیریز کے اختتام پر یہ ادائیگی ہوگی۔
بعض حلقوں کے مطابق حکام کا خیال ہے کہ دنیا میں کوئی اور بورڈ کرکٹرز کو شرٹ پر لوگو کی الگ ادائیگی نہیں کرتا تو ہم کیوں کریں؟ البتہ موجودہ معاہدے کی رو سے ایسا کرنا ضروری ہوگا۔
دوسری جانب پی سی بی ذرائع نے بتایا کہ اب سینٹرل کنٹریکٹ کے ساتھ ہی دیگر مد میں ملنے والی رقوم بھی دی جاتی ہیں، اب بھی ایسے ہی ادائیگی ہوگی، بورڈ نے بجٹ میں ریٹینر شپ اخراجات گذشتہ سال کے مقابلے میں37 فیصد (319 ملین روپے) بڑھا کر تقریبا 1173.49 ملین کر دیے ہیں،اس سے اضافے کا تاثر تو ملتا ہے۔
البتہ 2 سال قبل کی انڈراسٹینڈنگ کے تحت 2025-26 کے نئے معاہدوں میں کھلاڑیوں کی سابقہ میچ فیس اور ماہانہ تنخواہ برقرار رہے گی۔
چاروں کیٹیگریز کے پلیئرز کو ٹیسٹ میچ کھیلنے کا معاوضہ12 لاکھ 57 ہزار 795 ملتا ہے، ون ڈے انٹرنیشنل فیس 6 لاکھ 44 ہزار620 جبکہ ٹی ٹوئنٹی فیس 4 لاکھ 18 ہزار 584 روپے ہے۔اے کیٹیگری میں شامل کرکٹرز کو ماہانہ45 لاکھ روپے کنٹریکٹ کے ملیں گے، آئی سی سی آمدنی کا 3 فیصد حصہ 20 لاکھ 70 ہزار ماہانہ رہے گا۔
رواں دورانیے میں ماہانہ 65 لاکھ 70 ہزار روپے اسٹار کرکٹرز وصول کرتے رہیں گے، بی کیٹیگری میں موجود کھلاڑیوں کی ماہانہ تنخواہ 30 لاکھ روپے ہے، اس میں آئی سی سی شیئر کے15 لاکھ 52 ہزار500 روپے جمع ہوں گے، یوں ان کا ماہانہ معاوضہ45 لاکھ 52 ہزار 500 روپے رہے گا۔
سی کیٹیگری میں شامل کرکٹرز کے10 لاکھ روپے ماہانہ میں آئی سی سی کے10 لاکھ 35 ہزار شامل ہوں گے، یوں وہ ہر ماہ 20 لاکھ 35 ہزار روپے ہی حاصل کرتے رہیں گے۔
ڈی کیٹیگری میں جگہ پانے والوں کی ماہانہ تنخواہ ساڑھے 7 لاکھ روپے ہے، اس میں آئی سی سی کے5 لاکھ 17 ہزار 500 شامل ہوں گے، انھیں ماہانہ12 لاکھ 67 ہزار 500 روپے ہی دیے جائیں گے۔
گذشتہ سال 25 کھلاڑیوں سے معاہدے ہوئے تھے، اب ان میں مزید 5 کا اضافہ کر کے تعداد کو 30 تک پہنچا دیا جائے گا، نئے سینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان رواں ماہ ہی متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سینٹرل کنٹریکٹ ماہانہ تنخواہ کیٹیگری میں ٹی ٹوئنٹی لاکھ روپے پی سی بی ٹیم کی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔