پہلی شادی صرف ایک ہزار روپے میں ہوئی تھی؛ بشریٰ انصاری نے حیران کن وجہ بتادی
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
لیجنڈری اداکارہ، گلوکارہ اور مصنفہ بشریٰ انصاری نے اقبال انصاری سے 1978 میں اصراف اور قرض سے پاک شادی کا قصہ سنا کر سب کو حیران کردیا۔
نجی ٹی وی کے مارننگ شو کو انٹرویو میں اداکارہ بشریٰ انصاری نے بتایا کہ 1978 میں پروڈیوسر اقبال انصاری سے شادی طے ہوئی تو ہم دونوں کے اہل خانہ کے درمیان شادی کے اخراجات پر گفتگو ہوئی۔
بشریٰ انصاری نے مزید بتایا کہ اُس وقت اقبال انصاری سرکاری ملازم تھے اور ماہانہ تنخواہ صرف 1200 روپے تھی۔ ظاہر ہے جو بہت کم تھی اور شادی کے اخراجات اُس وقت بھی بہت زیادہ ہوا کرتے تھے۔
اداکارہ بشریٰ انصاری کے بقول اس بات کا احساس کرتے ہوئے میرے والد نے کہا کہ شادی کے لیے کار فروخت نہیں ہوگی، نہ زیور بنے گا، نہ قرض لیا جائے گا۔ صرف نکاح ہوگا اور وہ بھی سادگی سے!
بشریٰ انصاری نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ اس طرح میری شادی صرف ایک ہزار روپے میں انجام پاگئی، بغیر کسی زیور، قرض یا بڑی تقریب کے، اور آج تک اُنہیں کبھی کوئی مالی بوجھ محسوس نہیں ہوا۔
بشریٰ انصاری نے نئی نسل کو پیغام دیا کہ شادی خوشی کا موقع ہے، دکھاوا کرنے کا نہیں اور خوشی قرض میں نہیں، تعلق میں ہوتی ہے۔
یہ انٹرویو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو مداحوں نے ادکارہ بشریٰ انصاری کی گفتگو کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بے جا اصراف سے گریز کرنا قرض کے بوجھ تلے دبنے سے بہتر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔