یوم آزادی پاکستان پر اپنے پیغام میں چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ آزادی کوئی ایسا تحفہ نہیں جو محض تاریخ میں محفوظ ہو، بلکہ یہ ایک ذمہ داری ہے، جس سے ہر روز تجدید کرنا ضروری ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہم جمہوریت، دفاع اور خودمختاری پر کبھی سمجھوتا نہیں کریں گے۔ جشن یوم آزادی پاکستان کے موقع پر اپنے پیغام میں بلاول بھٹو زرداری نے قوم کو یوم آزادی اور معرکہ حق کی مبارک باد دیتے ہوئے بے روزگاری، مہنگائی، غربت اور امتیاز کے خاتمے کی جدوجہد کو مزید تیز کرنے کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری استحکام، 1973ء کے آئین اور پاکستان کے ناقابلِ تسخیر دفاع و خودمختاری پر کبھی سمجھوتا نہیں کریں گے۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آج کا دن ہمارے عوام کی ثابت قدمی، اتحاد اور ناقابلِ تسخیر جذبے کی یاد دہانی کراتا ہے، قائداعظمؒ کی زیرِ قیادت ہمارے آباؤ اجداد نے وہ کارنامہ سرانجام دیا، جو بہت سے لوگوں کو ناممکن لگتا تھا، 14 اگست 1947ء سے قبل بہت لوگوں کو ایک آزاد اور خودمختار پاکستان کا قیام ناممکن لگتا تھا، بانی پاکستان کا خواب تھا کہ ہر شہری کو مذہب، ذات، جنس یا عقیدے سے بالاتر ہو کر عزت، مساوات اور انصاف سے زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو۔

چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ پاکستان کے بانیان کے اُس وژن کی محافظ رہی ہے، پیپلز پارٹی جمہوریت کے تحفظ اور آئین کے دفاع کیلئے جدوجہد کرتی آئی ہے، پیپلز پارٹی ارض وطن کو ایک ایسا ملک بنانے کیلئے سرگرم عمل جہاں مواقع چند افراد کا استحقاق نہیں بلکہ سب کا حق ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قائدِ عوام بھٹو شہید اور شہید بینظیر بھٹو نے اپنی زندگیاں ملک و قوم کیلئے وقف کر دیں، قائدِ عوام اور بی بی شہید کی زندگیاں جمہوریت، پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے وقف تھیں، شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کی قربانیاں آج بھی مشعلِ راہ ہیں، جو ہمیں ایک روشن اور منصفانہ مستقبل کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ آج یومِ آزادی کے موقع پر میں ہر پاکستانی، خصوصاً اپنی نوجوان نسل سے ایک اپیل کرتا ہوں کہ آپ تقسیم سے بالاتر ہوکر نفرت اور عدم برداشت کو مسترد کریں، آپ ایک پُرامن، خوشحال اور ترقی پسند پاکستان کی تعمیر کیلئے مل کر کام کریں، آئیں عہد کریں کہ ہم اپنی جمہوریت کا تحفظ کریں گے اور اپنے عوام کو بااختیار بنائیں گے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ آئیے عہد کریں کہ ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ کوئی بچہ بھوکا نہ سوئے، کوئی گھر تاریکی میں نہ رہے اور کسی آواز کو دبایا نہ جائے، آزادی کوئی ایسا تحفہ نہیں جو محض تاریخ میں محفوظ ہو، بلکہ یہ ایک ذمہ داری ہے، جس سے ہر روز تجدید کرنا ضروری ہے، آئیں اپنے ماضی کو اس طرح خراجِ تحسین پیش کریں کہ ہم اپنا ایک روشن مستقبل تعمیر کریں، ایک ایسا متقبل جو ہمارے اُن اجداد کی قربانیوں کے شایانِ شان ہو، جنہوں نے ہمیں یہ وطن عطا کیا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ دعاگو ہوں کہ پاکستان ہمیشہ مضبوط قومی اتحاد و ہم آہنگی سے مالامال اقوامِ عالم میں سربلند رہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ تھا کہ

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو