دہشتگردوں نے خیبر پختونخوا پولیس پر ایک اور بزدلانہ وار کر دیا، پولیس کی جوابی کارروائی جاری
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
سٹی42: ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردوں nنے خیبر پختونخوا پولیس پر ایک اور بزدلانہ وار کر دیا۔ پولیس نے بھرپور انداز میں فوری جواب دیا۔ پولیس کے جوانوں کی جوابی فائرنگ سے ایک دہشتگرد ہلاک ہو گیا اور 3 زخمی ہو گئے۔
آج جمعہ کی شام موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقہ کولاچی میں دہشتگردوں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، پولیس کی جوابی فائرنگ سے ایک دہشتگرد ہلاک اور 3 زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
مائع قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان
ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا کہ ایس ایچ او کلاچی بھی دہشتگردوں کی فائرنگ سے زخمی ہوئے ہیں۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈیرہ اسماعیل خان ایلیٹ فورس اور RRF کے ساتھ پولیس فورس کی دیگر پولیس ٹیموں کو لے کر موقع پر پہنچ گئے ۔پولیس نے قریبی جنگلات کو گھیرے میں لیکر سرچ آپریشن شروع کردیا ۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔