ملک کے شمالی علاقوں میں بارشوں سے تباہی، تقریباً 300 ہلاکتیں ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں طوفانی بارشوں، کلاؤڈ برسٹ اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی۔
مختلف حادثات میں تقریباً 300 افراد جاں بحق، سینکڑوں لاپتہ اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ مکانات، پل اور سڑکیں بہہ گئیں جبکہ کئی گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔
باجوڑ میں ہیلی کاپٹر حادثہامدادی کارروائیوں کے دوران باجوڑ میں خیبرپختونخوا حکومت کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا، جس میں دو پائلٹس سمیت 5 افراد شہید ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں:ابھی مزید بارشیں ہوں گی: این ڈی ایم اے نے تازہ ایڈوائزری جاری کردی
حکام کے مطابق حادثے کے بعد ریسکیو آپریشن مزید مشکل ہوگیا، تاہم پاک فوج اور ریسکیو ٹیمیں امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بونیر سب سے زیادہ متاثرپی ڈی ایم اے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ نقصان ضلع بونیر میں ہوا جہاں بادل پھٹنے سے 12 سے زائد دیہات متاثر اور 213 افراد جاں بحق ہوگئے۔
متعدد دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے اور سینکڑوں مکانات مکمل تباہ ہوگئے۔
مانسہرہ اور دیگر اضلاعمانسہرہ میں شدید بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ کے باعث 20 ہلاکتوں کی تصدیق ہوچکی ہے۔ بٹل علاقے میں چھ گھروں پر مشتمل گاؤں مکمل طور پر مٹ گیا، جہاں 15 افراد جاں بحق اور درجنوں لاپتا ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں مون سون کی شدت برقرار، مختلف شہروں میں موسلا دھار بارشیں، انتظامیہ الرٹ
سوات اور شانگلہ میں بھی متعدد ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں، جبکہ باجوڑ کی تحصیل سلارزئی میں آسمانی بجلی گرنے سے 21 افراد جاں بحق ہوئے۔
گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی صورتحالگلگت بلتستان میں مختلف وادیوں میں سیلابی ریلوں سے فصلیں، مکانات اور پل تباہ ہوگئے، 10 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔
آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں سیلابی ریلوں نے 6 رابطہ پل بہا دیے اور مختلف حادثات میں 11 ہلاکتیں ہوئیں۔
امدادی سرگرمیاں اور حکومتی اقداماتوزیراعظم نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا اور چیئرمین این ڈی ایم اے کو فوری طور پر بھرپور ریلیف آپریشن کی ہدایت دی۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے صوبے میں یومِ سوگ کا اعلان کیا۔
پاک فوج، ریسکیو ادارے اور فلاحی تنظیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں مصروف ہیں، سینکڑوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد کشمیر باجوڑ بارش بونیر تباہی خیبرپختونخوا گلگت بلتستان مون سون.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: باجوڑ تباہی خیبرپختونخوا گلگت بلتستان افراد جاں بحق گلگت بلتستان
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔