گرفتار ڈاکٹر عثمان قاضی کا ریلوے سٹیشن پر حملے میں مدداور درجنوں دہشت گردوں کو تربیت دینے کا اعتراف
14 اگست کو دہشت گردی کامنصوبہ بنا یا تھا، فورسز کی بروقت کارروائی سے بڑے پیمانے پر تباہی ٹل گئی‘ذرائع

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے خودکش بمبار کی نشاندہی پر دہشت گردوں کے سرغنہ یونیورسٹی لیکچرار سمیت 3 دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا گیا، گرفتار دہشت گردوں سے مزید تحقیقات جاری ہیں جس کے نتیجے میں اہم انکشافات اور مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سکیورٹی فورسز نے کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر خود کش حملے کے سہولتکار کی نشاندہی پر خود کش بمبار تیار کرنے والے بیوٹیمز یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی پروفیسر سمیت فتنہ الہندوستان کے 3 دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا، گرفتار دہشت گردوں نے جشن آزادی کی تقریبات میں خود کش حملوں اور بم دھماکوں کا منصوبہ بنایا تھا۔سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جولائی کے آخری ہفتے میں خفیہ اطلاع ملی تھی کہ کالعدم تنظیم کے دہشتگردوں نے اگست کے آغاز سے ہی کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں دہشتگردی کا منصوبہ بنایا ہے جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشتگردی کے منصوبے کو ناکام بنانے کی حکمت عملی تیار کی اور صوبے بھر میں دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے کارروائیوں کا آغاز کردیا گیا۔سکیورٹی ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ 11 اگست کو کوئٹہ سے ایک خود کش حملہ آور کو گرفتار کیا گیا، جس نے ابتدائی تفتیش میں انکشاف کیا کہ اسے خود کش حملے کے لیے بیوٹیمز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی نے تیار کیا اس کے علاوہ اور بھی بمبار تیار کیے گئے ہیں، گرفتار بمبار کی نشاندہی پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے خودکش بمبار تیار کرنے والے بیوٹیمز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی کو افنان ٹاؤن سے گرفتار کیا اور اس کی نشاندہی پر مزید ایک اور بمبار کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔دوران تفتیش خود کش بمبار نے اعتراف کیا کہ وہ فتنہ الہندوستان کی کالعدم تنظیم بی ایل اے کے مجید برگیڈ کے لیے کام کرتا ہے اور نوجوانوں کو خود کش حملوں کے لیے تیار کرتا ہے، جس نے ناصرف 9 نومبر 2024ء کو کوئٹہ ریلوے سٹیشن پر ہونے والے خود کش حملے میں سہولت کاری کی بلکہ سکیورٹی فورسز پر خود کش حملوں اور یوم آزادی کی تقریبات کے دوران کوئٹہ اور دیگر شہروں پر حملہ کرنے کے لئے مزید بمبار بھی تیار کیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: کی نشاندہی پر بمبار تیار کرنے والے تیار کی کے لیے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار