Juraat:
2026-06-03@08:41:58 GMT

صدر میں خطرناک حد تک کمزور عمارت تعمیر

اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT

صدر میں خطرناک حد تک کمزور عمارت تعمیر

پلاٹ نمبر C2 1/5 پرناجائز تعمیرات کو ڈی ڈی الطاف کھوکھر کی سرپرستی
خطیر رقم اینٹھ کر کمرشل امور کی اجازت ، ڈی جی اور متعلقہ ادارے خاموش

سندھ بلڈنگ صدر میں کرپشن کی سرکاری عنایت سے غیر قانونی بلند عمارتوں کی تعمیر تیز، ادارے تماشائی خطیر رقوم کے عوض قانون کی کتاب بند شہری جان ہتھیلی پر رکھ کر گزرنے پر مجبورپلاٹ C2 1/5 لائنز ایریا بلمقابل پارکنگ پلازہ ڈپٹی ڈائریکٹر الطاف کھوکھر نے حفاظت کا ذمہ اٹھالیاجرآت سروے ٹیم کی ڈی جی ہاس سے موقف لینے کی کوشش۔ کراچی کا مرکزی تجارتی علاقہ صدر کرپشن کی ایک اور زندہ مثال بن چکا ہے یہاں غیر قانونی بلند عمارتوں کی تعمیر پوری قوت سے جاری ہے گویا اجازت نامہ فائلوں میں نہیں بلکہ نوٹوں کی گڈیوں میں چھپتا ہے بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور متعلقہ افسران کی سرکاری عنایت اس بات کا ثبوت ہے کہ نوٹ کے سامنے قانون کی حیثیت محض ایک کاغذ کی طرح ہے جسے آسانی سے پھاڑ دیا جاتا ہے عوام پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر اتنی بڑی خلاف ورزیاں دن دہاڑے ہو رہی ہیں تو آخر اجازت کس نے دی؟زیر نظر تصویر میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ پلاٹ C2 1/5 لائنز ایریا بلمقابل پارکنگ پلازہ کمزور بنیادوں پر خطرناک کمرشل عمارت کی تعمیر کی چھوٹ ڈپٹی ڈائریکٹر الطاف کھوکھر نے خطیر رقم بٹورنے کے بعد دے دی ہیاور صدر ٹان میں جاری غیر قانونی عمارتوں کی حفاظت کا ذمہ بھی اٹھا رکھا ہے شہری حلقوں میں اس بات کی گردش ہے کہ افسران نے اپنی جیبیں بھرنے کے بعد قیمتی انسانی جانیں داو پر لگا دی ہیں یہی وجہ ہے کہ غیر قانونی عمارتیں دن بہ دن آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اس رشوت زدہ کھیل میں سب سے بڑی قیمت عام شہری اپنی جان اور تحفظ کی شکل میں ادا کر رہے ہیںاگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو صدر کی یہ غیر قانونی عمارتیں کل کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہیںمگر سوال یہ ہے کہ جب قانون خود بک چکا ہو تو انصاف کہاں سے ملے گاخلاف ضابطہ دھندوں پر موقف لینے کے لئے جرآت سروے ٹیم کی جانب سے ڈی جی ہاس رابطے کی کوشش کی گئی مگر رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ

بیرون ملک سفری پابندیوں سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ سامنے آگیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ صرف اوور اسٹے پر دوسرے ملک سے ڈی پورٹ ہونا سفری پابندی کا جواز نہیں، جسٹس محمد آصف نے چار صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے دوسرے ملک سے اوور اسٹے پر ڈی پورٹ ہونے پر پی سی ایل میں نام ڈالنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دے دیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ سفری پابندی کے لیے کسی جرم ، سیکیورٹی خدشے یا ناقابل تردید ثبوت کا وجود ضروری ہے، بغیر جرم شہری کے بیرونِ ملک سفر اور روزگار کے آئینی حق پر پابندی لگانے کا جواز نہیں۔

عدالت نے کہا کہ سفری پابندی کا اقدام آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10-A، 15، 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔ شہری کا نام اس طرح سفری پابندی لسٹ میں رکھنا آئین کے بنیادی حقوق اور قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے۔

عدالت کے مطابق وفاقی حکومت نے بتایا کہ خلیجی ملک میں اوور اسٹے کی وجہ سے شہری ڈی پورٹ ہوا، وفاقی حکومت کا موقف ہے پالیسی کی تحت شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا، وفاقی حکومت کے مطابق دوسرے شہریوں کے ویزوں کے تحفظ اور ملک کے وقار کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • ارکان پارلیمنٹ کی رہائش کیلیے فیملی سوٹس؛ بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
  • گھوٹکی اور گردونواح میں بجلی کا بریک ڈاؤن، شہری مشکلات کا شکار
  • بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • پہاڑوں پر برف پگھلنے سے دریا کمراٹ کے بہاؤ میں اضافہ، صورتحال خطرناک ہونے لگی
  • بجٹ میں اراکین پارلیمنٹ کے لاجز کی تعمیر کیلئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب