11 ویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کیلئے اجلاس 29 اگست کو طلب
اشاعت کی تاریخ: 24th, August 2025 GMT
11ویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ (این ایف سی) اجلاس 29 اگست کو طلب کرلیا گیا جس کا ایجنڈا بھی جاری کردیا گیا ۔
چیئرمین این ایف سی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرصدارت قومی مالیاتی کمیشن کے 29 اگست کو شیڈول ابتدائی اجلاس کا ایجنڈا جاری کردیا گیا۔
اجلاس کی صدارت چیئرمین این ایف سی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کریں گے، اجلاس میں شرکت کے لیے تمام این ایف سی ارکان کو دعوت دے دی گئی۔
قومی مالیاتی کمیشن کے ابتدائی اجلاس میں 3 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا جائے گا، اجلاس میں این ایف سی ایوارڈ سے متعلق سفارشات پر غور ہوگا اور ذیلی گروپس قائم کرنے کا جائزہ لیا جائے گا جب کہ اجلاس میں مستقبل کے اجلاس کے حوالے سے شیڈول طے کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ دو روز قبل صدر مملکت آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 160 (1) کے تحت 11واں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کی تشکیل کی تھی۔
وزارت خزانہ میں قائم این ایف سی سیکریٹریٹ سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 11ویں قومی مالیاتی کمیشن 9 ارکان پر مشتمل ہے، وفاقی وزیر خزانہ اس کے چیئرمین جب کہ چاروں صوبوں کے وزرائے خزانہ کمیشن کے ارکان میں شامل ہوں گے۔
اسی طرح پنجاب حکومت کے نمائندے سابق بیوروکریٹ ناصر محمود کھوسہ، سندھ سے ماہر معاشیات ڈاکٹر اسد سید، خیبر پختونخوا سے ڈاکٹر مشرف رسول اور بلوچستان سے فرمان اللہ کو کمیشن کا رکن مقرر کیا گیا ہے۔
اجلاس میں این ایف سی ایوارڈ سے متعلق سفارشات پر غور ہوگا، وفاق سمیت اجلاس میں چاروں صوبے مالیاتی صورتحال پر بریفنگ دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: قومی مالیاتی کمیشن ایف سی اجلاس میں
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں