وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم فیز 2 کے درجنوں لیپ ٹاپ لاپتہ، لاکھوں کا نقصان
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم کے دوسرے مرحلے میں لیپ ٹاپس لاپتہ ہونے والے کا انکشاف ہواہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں یہ بات سامنے آئی کہ اسکیم کے تحت دیے گئے 1011 لیپ ٹاپ چوری یا گمشدہ قرار دیے گئے، جن میں سے اب تک 784 کی ریکوری ہو چکی ہے جبکہ 227 لیپ ٹاپ اب بھی لاپتہ ہیں۔
12 ملین روپے کا مالی نقصان
آڈٹ حکام نے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ان لاپتہ لیپ ٹاپس سے **مجموعی طور پر 12 ملین (1 کروڑ 20 لاکھ روپے) کا نقصان ہوا ہے، لیکن افسوسناک طور پر تاحال ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت
اجلاس میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے حکام نے بتایا کہ کچھ کیسز میں ڈیٹا کی عدم دستیابی کے باعث مسائل پیدا ہوئے اور اب بھی 143 لیپ ٹاپ ایسے ہیں جن کی تفصیلات مکمل نہیں۔ یہ کیسز زیادہ تر کراچی اور گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور سے جُڑے ہوئے ہیں۔
کمیٹی کی سخت ہدایات
کمیٹی نے ہدایت دی کہ اگر ایک ماہ کے اندر لاپتہ لیپ ٹاپ واپس نہ کیے گئے تو متعلقہ افراد سے ریکوری کی جائے گی۔ اجلاس کے دوران یہ بھی زور دیا گیا کہ آئندہ ایسی اسکیموں میں شفافیت اور ریکارڈ کی مکمل دستیابی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: لیپ ٹاپ
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔