واٹس ایپ نے اسٹیٹس شیئر کا نیا فیچر متعارف کرا دیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
واٹس ایپ نے صارفین کے لیے اسٹیٹس اپ ڈیٹ شیئر کرنا مزید تیز اور آسان بنانے کے لیے نیا شیئر شیٹ فیچر متعارف کرا دیا ہے۔
اس فیچر کے تحت اب صارفین دیگر ایپس سے براہِ راست اپنی تصاویر یا ویڈیوز واٹس ایپ اسٹیٹس کے طور پر شیئر کرسکیں گے، اس کے لیے ایپ کھولنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ صارفین چاہیں تو اپنے کانٹیکٹس یا گروپس کے ساتھ بھی میڈیا شیئر کرسکتے ہیں، جبکہ مائی اسٹیٹس کے ذریعے اسے بطور اسٹیٹس اپ ڈیٹ پوسٹ بھی کیا جاسکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ کا نیا فیچر، مس کال کا جواب ملے گا خودکار وائس نوٹ کی صورت میں
اس فیچر سے صارفین کم وقت اور کم مراحل میں براہِ راست ایڈیٹ اور پوسٹ کر سکیں گے جس سے سہولت اور رفتار میں اضافہ ہوگا۔
فی الحال یہ فیچر واٹس ایپ بیٹا فار آئی او ایس استعمال کرنے والے صارفین کے لیے دستیاب ہے، جبکہ کمپنی نے کہا ہے کہ آئندہ اپ ڈیٹس میں یہ اینڈرائیڈ صارفین تک پہنچا دیا جائے گا۔
گزشتہ چند دنوں میں واٹس ایپ نے کئی نئے فیچرز متعارف کرائے ہیں تاکہ صارفین کو نیا اور بہتر تجربہ فراہم کیا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ کے 8 نئے کارآمد فیچرز بیٹا ٹیسٹرز کے لیے دستیاب، خصوصیات کیا ہیں؟
کمپنی ایک اور فیچر پر بھی کام کر رہی ہے جس کے ذریعے صارفین یہ دیکھ سکیں گے کہ حال ہی میں کس نے ان کا اسٹیٹس دیکھا ہے۔ انسٹاگرام کی طرح یہ فیچر چند کانٹیکٹس کی پروفائل تصاویر اور کل ویو کاؤنٹ نیچے دکھائے گا تاکہ صارفین کو مکمل فہرست کھولنے کی ضرورت نہ پڑے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آئی فون اسٹیٹس شیئر اینڈریائیڈ صارفین میٹا واٹس ایپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی فون اسٹیٹس شیئر اینڈریائیڈ صارفین میٹا واٹس ایپ واٹس ایپ کے لیے
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔