وزیر دفاع خواجہ  آصف نے کہا ہے کہ  پانی کا خطرہ ابھی کم ہوا ہے لیکن ٹلہ نہیں ہے دوبارہ سیلاب آنے کا اندیشہ ہے، پانی میں بھارت کے لوگوں کی لاشیں بھی بہہ کر آئی ہیں۔

سیالکوٹ میں ایکسپریس نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ بارش کی ماضی قریب میں مثال نہیں ملتی، اس سے پہلے کبھی اتنا پانی نہیں آ یا، بھارت کی طرف سے مزید پانی رلیز ہونے کی امکانات ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت نے اس سے پہلے دو دفعہ پانی رلیز کیا ہے جس کا انہوں نے ہمیں بتایا ہے مزید بارشیں ہوئیں تو خطرہ ابھی ٹلہ نہیں ہے، پانی کافی حد تک اتر گیا ہے، نالوں کے نزدیک جو گھر ہیں ان گھروں میں پانی ابھی کھڑا ہے، پانی کا خطرہ ابھی کم ہوا ہے لیکن ٹلہ نہیں ہے، دوبارہ سیلاب آنے کا اندیشہ ہے۔

خواجہ  آصف نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کوششیں کر رہی ہے کہ جتنی جلدی ہو پانی نکل جائے، پانی کھڑا ہونے کی زیادہ وجہ مویشیوں کی لاشیں اور کوڑا کرکٹ پھینکا ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے آنے والے پانی میں مجھے شہریوں نے بتایا کہ اس میں بھارت کے لوگوں کی لاشیں بھی بہہ کر آئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جتنا پانی اب آیا ہے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی، سیالکوٹ شہر بھر میں تقریباً ساڑھے تین سو ملی میٹر بارش ہوئی ہے، 1976 کے بعد پہلی مرتبہ کل اتنی بارش ہوئی ہے، اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے تھوڑا وقت لگے گا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں اس معاملے میں اس طرح کی طوفانی بارشوں کے لئے تیاری نہیں تھی، میں سمجھتا ہوں شہروں میں دریاؤں نالوں میں جب تک انکروچمنٹس ختم نہیں کریں گے، ایسی صورتحال رہے گی۔

خواجہ  آصف نے کہا کہ ہمارے سیالکوٹ میں دو تین نالے جو گزرتے ہیں،  سارے جہاں کا گند اس میں ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ایڈمنسٹریشن کا قصور ہے جو اس کو نہیں دیکھتی، سیوریج کے نظام میں تبدیلیاں کی جائیں تو آئندہ ہونے والی بارشوں سے ہم نمٹ سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وزیر دفاع خطرہ ابھی کی لاشیں

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ