اسلام آباد میں چینی کی فراہمی ایک بار پھر سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے اور ریٹیل سیکٹر کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حالیہ پالیسی کے تحت ہول سیل مارکیٹ سے صرف وہ دکاندار چینی خریدنے کے اہل ہیں جن کے پاس اسلام آباد کا شناختی کارڈ موجود ہو اور وہ بھی محدود مقدار میں ہو۔

یہ بھی پڑھیں: کیا چینی مل مالکان کے غیرمعمولی منافع پر ونڈ فال ٹیکس عائد کیا جاسکے گا؟

اس انتظام نے نہ صرف سپلائی چین میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں بلکہ ریٹیل مارکیٹ کی پائیدار فراہمی، قیمتوں کے استحکام اور کاروباری تسلسل کے حوالے سے بھی سنگین خدشات جنم لے رہے ہیں۔

پاکیزہ کیش اینڈ کیری کے مالک سردار عامر کا کہنا ہے کہ چینی کی اس وقت قیمت انہیں منڈی سے 188 روپے فی کلو مل رہی ہے جبکہ اسلام آباد انتظامیہ یہ تقاضا کرتی ہے کہ وہ اسے 175 روپے فی کلو فروخت کریں جو ان کے مطابق سراسر زیادتی ہے۔

انہوں نے کہا اگر ہم چینی لینے جاتے ہیں تو بھی ہمیں صرف 50 کلو کے 2 تھیلوں سے زیادہ نہیں مل سکتی وہ بھی اس صورت میں اگر ہمارا شناختی کارڈ اسلام آباد کا ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے دکاندار جن کا تعلق یہاں سے نہیں ہے انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

سردار عامر نے مزید بتایا چینی کا 50 کلو کا تھیلا اس وقت منڈی میں 9 ہزار سے 9 ہزار 500 روپے کے درمیان فروخت ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم منڈی جائیں تو گاڑی والا 1500 سے 2000 روپے کرایہ لیتا ہے جبکہ 2 تھیلوں کے لیے ہم دکاندار روز اتنا کرایہ نہیں لگا سکتے۔

انہوں نے کہا کہ منڈی کے ریٹ کے حساب سے اگر ہم فروخت کرتے ہیں تو ہم پر جرمانہ لگاتے ہیں اور اگر ہم نے چینی کم رکھی ہے تو بھی ہم پر جرمانے ہوتے ہیں اور اسٹور بند کرنے کا کہا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دکاندار ٹیکسز دیتے ہیں اور ہر طرح سے حکومت اور اداروں کے مطابق چلتے ہیں لیکن ان کے لیے کوئی سہولت نہیں ہے۔ ہم اس صورتحال میں کیا ہی کاروبار کریں گے۔

مزید پڑھیے: ملک میں چینی کا کوئی بحران نہیں، قیمتوں میں اضافہ ذخیرہ اندوزی کا نتیجہ ہے، وفاقی وزیر صنعت و پیداوار

دوسری جانب گزشتہ 5 برس سے اسلام آباد میں کریانہ اسٹور چلانے والے محمد ایاز کا کہنا تھا کہ ان کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے اور اب وہ شدید مشکلات میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اسلام آباد کے شناختی کارڈ کے بغیر چینی نہیں ملتی اور کسی نہ کسی طرح دوسرے لوگوں کے کارڈ پر چینی خریدنی پڑتی ہے لیکن یہ کب تک ممکن ہے؟

محمد ایاز نے کہا کہ ہمارا کاروبار یہاں ہے تو کیا یہ ہمارا قصور اور کیا اب ہم روزانہ 2 سے 3 گھنٹے سفر کر کے اپنے آبائی علاقے سے چینی لائیں، یہ کسی صورت ممکن نہیں۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے دوکاندار صہیب رشید کا کہنا تھا کہ گاہک روز پوچھتے ہیں کہ چینی کہاں ہے اور کتنے کی ملے گی لیکن ہم کیا جواب دیں؟

مزید پڑھیں: وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس، چینی کی قیمتوں میں خودساختہ اضافے پر سخت کارروائی کا حکم

انہوں نے کہا کہ اگر مہنگی خریدیں تو نقصان ہے اور اگر سستی بیچیں تو جرمانہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ٹیکس بھی دیتے ہیں اور لائسنس بھی بنواتے ہیں لیکن حکومت نے ہمارے لیے کوئی سہولت نہیں رکھی اور اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس دباؤ میں کاروبار چلانا ممکن نہیں رہا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسلام اباد اسلام آباد میں چینی کی فراہمی چینی چینی اور اسلام آباد کے دکاندار شوگر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلام اباد اسلام ا باد میں چینی کی فراہمی چینی چینی اور اسلام ا باد کے دکاندار شوگر انہوں نے کہا اسلام آباد نے کہا کہ چینی کی کا کہنا ہیں اور اسلام ا ہے اور اگر ہم

پڑھیں:

دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں بھارت کا کردار بالکل واضح ہے، جبکہ افغان عبوری حکومت دہشت گرد عناصر کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔

بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا جبکہ آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم ملکی استحکام، دفاع اور قومی یکجہتی میں اس کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سیاسی قیادت نے ہمیشہ قومی مفاد کو ترجیح دی اور قیامِ پاکستان میں بھی بلوچستان کے عوام نے تاریخی کردار ادا کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور 90 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ انہوں نے مستونگ میں سیشن جج پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ ایک وقت ایسا تھا جب ملک سے دہشت گردی کا تقریباً مکمل خاتمہ ہو چکا تھا، تاہم ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس چیلنج کا مقابلہ پوری قوم کو متحد ہو کر کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جا سکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیاں عالمی سطح پر ملک کے مثبت تشخص کی عکاس ہیں۔ انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی برادری قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاق اور چاروں صوبوں کے باہمی تعاون سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور پاکستان کو معاشی ترقی، امن اور خوشحالی کی نئی منزلوں تک پہنچایا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  • آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ