پاکستان آئیڈل کی 11 سال بعد واپسی؛ تازہ دم اور سریلی آوازوں کیلیے آڈیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
پاکستان کے سب سے بڑے موسیقی کے مقابلے "پاکستان آئیڈل" کی 11 سال بعد واپسی ہو رہی ہے اور اس بار یہ سفر پہلے سے کہیں زیادہ شاندار اور رنگین ہونے جا رہا ہے۔
اس پروگرام میں نوجوان گلوکاروں کو اپنی صلاحیتیں منوانے کا موقع دیا جائے گا۔ شاندار کم بیک کے ساتھ اس بار ججز کی کرسیوں پر راحت فتح علی خان، بلال مقصود، زیب النسا بنگش اور ورسٹائل اداکار فواد خان براجمان ہوں گے۔
ججز کا سپر اسٹار پینل پاکستان آئیڈل کے لیے آڈیشن لے رہے ہیں جس کا آغاز سکھر سے ہوا جو ملتان اور لاہور کے بعد اب راولپنڈی اسلام آباد میں جگمگا رہا ہے جب کہ اگلا بڑا پڑاؤ کراچی ہوگا۔
پروڈکشن کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ یہ شو اس بار صرف ایک چینل پر نہیں بلکہ پانچ بڑے چینلز پر بیک وقت نشر ہوگا۔
موسیقی کے دیوانوں کے لیے یہ صرف شو کی واپسی نہیں بلکہ ایک نئی جنریشن کے اسٹارز کو سامنے آنے کا موقع ہے۔ جوش، مقابلہ، موسیقی اور خواب، سب ایک بار پھر زندہ ہونے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ پہلی بار 2013 میں پاکستان آئیڈل نجی ٹی وی پر نشر ہوا تھا تو یہ محض ایک شو نہیں بلکہ ملک کو نیا ٹیلنٹ دینے والا پروگرام ثابت ہوا تھا۔
جس میں ہزاروں نوجوانوں نے آڈیشن دیا تھا اور لاکھوں ناظرین نے ٹی وی اسکرینز سے نظریں جمائے رکھی تھیں۔
جب فائنل میں لاہور کے نوجوان گلوکار نے میدان مارا تو یہ ایک تاریخی لمحہ بن گیا تھا۔ اُس وقت پاکستان آئیڈیل کے ججز میں علی عظمت، بشریٰ انصاری اور حدیقہ کیانی شامل تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،