بھارت کا 2030 کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی کے لیے بولی دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
نیو دہلی(سپورٹس ڈیسک) بھارت نے 2030 کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی کے لیے باضابطہ طور پر بولی دینے کا فیصلہ کر لیا ہے، جسے 2036 اولمپکس کی تیاریوں کی سمت ایک اہم قدم کہا جا رہا ہے۔
انڈین اولمپک ایسوسی ایشن (IOA) کی صدر پی ٹی اوشا نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ تیاریاں تیزی سے آگے بڑھیں گی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی دوبارہ میزبان کے طور پر زیر غور ہے، جہاں 2010 میں بھی گیمز ہوئے تھے، مگر وہ ایونٹ بدعنوانی اور ناقص سہولیات کے الزامات کی زد میں رہا تھا۔
بھوبنیشور اور احمد آباد کو بھی ممکنہ میزبان شہروں میں شامل کیا گیا ہے۔ احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم کو خاص اہمیت حاصل ہے، جو دنیا کا سب سے بڑا کرکٹ اسٹیڈیم ہے۔
بھارت نے گزشتہ برس 2036 اولمپکس کی میزبانی کے لیے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کو خطِ ارادہ جمع کرایا تھا۔ رپورٹس کے مطابق نائیجیریا سمیت تین ممالک 2030 کامن ویلتھ گیمز میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
آسٹریلیا کے وکٹوریہ نے مالی مسائل کے باعث میزبانی سے انکار کیا تو نیا میزبان ڈھونڈنا مشکل ہو گیا۔ اب گلاسگو میں محدود طرز کا ایونٹ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، لیکن بھارت مکمل اسکیل پر مقابلہ کرانے کے عزم کے ساتھ سامنے آیا ہے۔
ایگزیکٹو کونسل رکن روہت راجپال کے مطابق اگر بھارت کو میزبانی ملی تو یہ فل اسکیل ایونٹ ہو گا جس میں کبڈی اور کھو کھو جیسے کھیل بھی شامل کیے جا سکتے ہیں تاکہ بھارت اپنی میڈل پوزیشن مضبوط کرے۔
یاد رہے کہ بھارت اولمپک تاریخ میں اب تک صرف 10 گولڈ میڈلز جیت سکا ہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
اسپیشل اولمپکس پاکستان کے تحت نیشنل اسپیشل گیمز 2026کے دوسرے اور آخری مرحلہ میں کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد میڈلز تقسیم اور اختتامی تقریب کاانعقاد ہوا۔
اسپیشل اولمپکس پاکستان کی روح رواں رونق لاکھانی نے استقبالی کلمات ادا کیے، ان کا کہنا تھاکہ گیمز میں ملک بھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے والے خصوصی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ثابت کیا کہ وہ کسی سے کم نہیں۔
رونق لاکھانی نے گیمز کو کامیاب بنانے میں اسپانسرز اور ڈونرز بشمول میکڈونلڈ، پاکستان او ایم آئی اور فیصل بینک کا خصوصی شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کی سرپرستی کرتے ہوئے ان کو بھرپور اعتماد دینا چاہیے تاکہ وہ معاشرے کا مضبوط انگ بن سکیں۔
مہمان خصوصی راحل اعجاز کا کہنا تھا کہ سماجی ذمہ داری کے تحت ہم مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں، اسپیشل اولمپکس پاکستان کی خصوصی کھلاڑیوں کے لیے کاوشیں قابل قدر ہیں۔
فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے خصوصی طور پر کینیڈا سے آنے والی فیفا فٹبال کوچ کرن غوری نے کہا کہ ایونٹ میں شریک بوائز اور گرلز کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دل جیت لیے اور ثابت کیا کہ ان کی صلاحیتیں کسی سے ہرگز کم نہیں، جیسمین نے خصوصی کھلاڑیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بہترین سہولیات کی فراہمی پر اسپیشل اولمپکس پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
فٹبال چیمپئن شپ کے بوائز ایونٹ کی ایک کیٹگری میں فیڈرل ایریاز نے پہلی خیبر پختونخواہ نے دوسری اور سندھ نے تیسری پوزیشن حاصل کی،بی کیٹگری میں گلگت بلتستان فاتح رہا اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا جبکہ بلوچستان نے دوسری پوزیشن کے ساتھ سلور اور سندھ نے سوئم رہ کر برانز میڈل حاصل کیا۔
قبل ازیں گیمز میں شریک ٹیموں نے مارچ پاسٹ کیا اور سلامی دی،آخر میں کامیاب ٹیموں اور ان کے کھلاڑیوں میں میڈلز تقسیم کیے گئے،اگلے گیمز پنجاب میں ہوں گے، گیمز کا مقصد ذہنی معذوری والے کھلاڑیوں کو صلاحیتوں اور کھیل میں مہارت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا، گیمز کے ذریعہ چلی کے شہر چسینٹیاگو میں ہونے والے ورلڈ سمر اسپیشل گیمز تیاریوں کا اہم حصہ ہے۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے، جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے ذہنی معذوری کا شکار 82 کھلاڑیوں نے شرکت کی۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔