نیو دہلی(سپورٹس ڈیسک) بھارت نے 2030 کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی کے لیے باضابطہ طور پر بولی دینے کا فیصلہ کر لیا ہے، جسے 2036 اولمپکس کی تیاریوں کی سمت ایک اہم قدم کہا جا رہا ہے۔

انڈین اولمپک ایسوسی ایشن (IOA) کی صدر پی ٹی اوشا نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ تیاریاں تیزی سے آگے بڑھیں گی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی دوبارہ میزبان کے طور پر زیر غور ہے، جہاں 2010 میں بھی گیمز ہوئے تھے، مگر وہ ایونٹ بدعنوانی اور ناقص سہولیات کے الزامات کی زد میں رہا تھا۔

بھوبنیشور اور احمد آباد کو بھی ممکنہ میزبان شہروں میں شامل کیا گیا ہے۔ احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم کو خاص اہمیت حاصل ہے، جو دنیا کا سب سے بڑا کرکٹ اسٹیڈیم ہے۔

بھارت نے گزشتہ برس 2036 اولمپکس کی میزبانی کے لیے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کو خطِ ارادہ جمع کرایا تھا۔ رپورٹس کے مطابق نائیجیریا سمیت تین ممالک 2030 کامن ویلتھ گیمز میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

آسٹریلیا کے وکٹوریہ نے مالی مسائل کے باعث میزبانی سے انکار کیا تو نیا میزبان ڈھونڈنا مشکل ہو گیا۔ اب گلاسگو میں محدود طرز کا ایونٹ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، لیکن بھارت مکمل اسکیل پر مقابلہ کرانے کے عزم کے ساتھ سامنے آیا ہے۔

ایگزیکٹو کونسل رکن روہت راجپال کے مطابق اگر بھارت کو میزبانی ملی تو یہ فل اسکیل ایونٹ ہو گا جس میں کبڈی اور کھو کھو جیسے کھیل بھی شامل کیے جا سکتے ہیں تاکہ بھارت اپنی میڈل پوزیشن مضبوط کرے۔

یاد رہے کہ بھارت اولمپک تاریخ میں اب تک صرف 10 گولڈ میڈلز جیت سکا ہے۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ

بی جے پی(BJP) کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔

بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔

بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔

نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔

مزیدپڑھیں:انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا

ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔

رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔

سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • جھانوی کپور کی وائرل ویڈیو، پروموشنل ایونٹ میں خوفزدہ ردعمل
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی